سومناتھ مندر : پھر سے تاریخ کو ’سیاسی آلہ‘ بنایا جارہا ہے

   

رام پنیانی
بی جے پی کی سیاست جب سے رام مندر کے اطراف و اکناف گھومنے لگی۔ مثال کے طور پر ایودھیا میں تاریخی بابری مسجد کی شہادت کا سانحہ پیش آیا ، اسے غیرمعمولی انتخابی فوائد حاصل ہوئے۔ صرف اسے ہی فائدہ نہیں ہوا بلکہ اس کی اپنی سرپرست تنظیم آر ایس ایس نے بھی اس بہتی گنگا میں اچھی طرح ہاتھ دھولئے۔ بی جے پی نے خاص طور پر اس کے قدآور لیڈر ایل کے اڈوانی نے رام رتھ یاترا نکال کر بابری مسجد رام مندر مسئلہ کو ملک کا ایک سلگتا مسئلہ بنادیا اور دیکھتے ہی دیکھتے بی جے پی کی سیاسی طاقت میں غیرمعمولی اضافہ ہوگیا، ورنہ وہ صرف 2 ارکان پارلیمنٹ تک محدود تھی۔ بہرحال اب کاشی اور متھرا کے نام پر سیاست کی جارہی ہے اور سومناتھ سوا بھمان پرو کے ساتھ ایک نیا محاذ بھی کھولا گیا ہے۔ (سومناتھ فخر فیسٹیول) کے ذریعہ بی جے پی ایک نئی سیاسی توانائی حاصل کرنے میں مصروف ہوگئی ہے۔ اس موقع پر پورے مذہبی جوش و خروش کے ساتھ خطاب کرتے ہوئے ہمارے غیرحیاتیاتی (Non Biological) وزیراعظم نے دو چیزوں پر زور دیا: راست اور بالواسطہ طور پر انہوں نے دو چیزوں کا حوالہ دیا۔ پہلی چیز جو انہوں نے کہی، وہ یہ تھی کہ سومناتھ مندر ہندوستان کی شان اس کے وقار کی علامت کے طور پر کھڑی ہے۔ مسلم بادشاہوں نے سومناتھ مندر کو بار بار اپنے حملوں کا نشانہ بنایا لیکن سومناتھ مندر اپنی عظیم الشان اور وقار کے ساتھ ساتھ عظمت رفتہ کیلئے واپس آپ کے سامنے کھڑی ہے۔ محمود غزنوی نے 1025ء میں سومناتھ مندر کو ڈھا دیا، اس نے ایک نہیں دو نہیں بلکہ 17 مرتبہ سومناتھ مندر کو لوٹا۔ مودی جی نے جو دوسرا نکتہ اُٹھایا، وہ کانگریس پر راست حملہ تھا اور خاص طور پر انہوں نے ہمارے ملک کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، ویسے بھی مودی جی پنڈت جواہر لال نہرو کو اپنا پسندیدہ نفرت انگیز کردار بنائے ہوئے ہیں اور جن (نہرو) پر مندر کی دوبارہ تعمیر کا مخالف ہونے کا الزام بھی عائد کرتے ہیں۔ یہ بات مشکوک ہے کہ کوئی عبادت گاہ کسی قوم کی علامت ہوسکتی ہے، جیسا کہ وزیراعظم نے پرزور انداز میں کہا کہ سومناتھ مندر ہندوستان کی عظمت کی علامت ہے۔ اس کے برعکس بابائے قوم مہاتما گاندھی نے ہمیں سکھایا ہے کہ مذہب کا سب سے اہم پہلو اس کی اخلاقی اقدار ہوتے ہیں، جہاں تک محمود غزنوی کا سوال ہے۔ اس نے مندر کو لوٹا، اس کے دربار میں جو مورخین تھے۔ انہوں نے لکھا کہ محمود غزنوی نے یہ کام مذہبی بنیاد پر اور مذہبی تصور کے تحت کیا کیونکہ اسلام میں بت پرستی کی اجازت نہیں۔ فارسی ذرائع العظیبی اور البرونی سومناتھ مندر کو ایک خزانہ قرار دیتے ہیں۔ ایسا خزانہ جو لاقیمت زیورات و جواہرات سے بھرا پڑا تھا۔ اس نظریہ میں سب سے بڑا ستم یہ ہے کہ اگر محمود غزنوی کا مقصد بت شکنی (بتوں کو توڑنا) تھا تو اس نے غزنی سے سومناتھ آتے ہوئے راستوں میں آنے والے بے شمار بتوں کو مسمار کیوں نہیں کیا؟ آخر کس وجہ سے محمود غزنوی نے ان بتوں کو بناء کوئی نقصان پہنچائے چھوڑ دیا۔ محمود غزنوی کے سومناتھ پر حملوں کے پیچھے کارفرما کئی وجوہات ہوسکتی ہیں، کئی محرکات ہوسکتے ہیں، بنیادی وجہ یا محرک دولت تھی۔ یہ ہندوستان کے امیر ترین مندروں میں سے ایک تھا۔ ملک کی معروف مورخ رومیلا تھاپر جن کی کتاب ’’ہسٹری آف اینشینٹ انڈیا‘‘ (جسے پنگوین نے شائع کیا) نے کافی مقبولیت حاصل کی۔ وہ لکھتی ہیں کہ سومناتھ مندر میں سونے کے 20 ہزار دینار (سکوں) کے برابر دولت تھی۔ اس بات کے کوئی مستند و معتبر شواہد موجود نہیں کہ اسے 17 بار لوٹا گیا ہو، یہ ایک عوامی افسانہ ہے جو دولت محمود غزنوی نے لوٹی، وہ کئی ہاتھیوں پر لاد کر غزنی پہنچائی گئی۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ محمود غزنوی کی فوج میں کئی ہندو جرنیل تھے جن میں تلک، سوندھی، ہرزان اور ہند شامل ہیں۔ تاریخ بہقی کے مطابق محمود غزنوی کے جانشین مسعود غزنوی نے تلک کی قیادت میں اپنی فوج وسطی ایشیا بھیجی تھی تاکہ وہاں موجود مساجد کی دولت لوٹی جائے۔ محمود غزنوی نے سومناتھ سے واپس ہوتے وقت مقامی ہندو حکمرانوں میں سے ایک کو وہاں کا گورنر مقرر کیا۔ اس نے ایسے سکے جاری کئے جن پر سنسکرت زبان میں الفاظ کندہ تھے۔ مزید یہ کہ تھانپر کے راجہ آنند پال نے ہاتھی اور فوج بھیج کر اس کی مدد کی وغیرہ۔ قدیم اور عہد وسطیٰ کے ہندوستان میں مندروں کی مسماری بنیادی طور پر مذہبی عمل نہیں تھا۔ رچرڈ ایبسٹن اپنی تحقیق میں جو مغلوں سے پہلے کے ہندوستان میں منادر کی مسماری پر ہے، بتاتے ہیں کہ دو ہندو راجاؤں کے کل دیوتا (خاندانی دیوتا) کے بت کو توڑ دینا تھا اور اس کی جگہ اپنا کل دیوتا نصب کردیتا تھا۔ خلجی اور ملتان کے عبدالفتح داؤد کے درمیان لڑائی میں ایک مسجد کو تباہ کیا گیا۔ مذہب کو بادشاہوں کی سیاست سے جوڑنے کا عمل اس میں انگریزوں کے دور میں شروع کیا گیا، انگریزوں نے ہندوستانیوں کو ہمیشہ اپنی غلامی میں رکھنے کی خاطر ’’پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو‘‘کی پالیسی اپنائی اور اسی پالیسی کے تحت ہندوستان میں فرقہ وارانہ تاریخ نویسی کو فروغ دیا۔ اس کا آغاز جس میں مل کی کتاب ہسٹری آف انڈیا سے ہوا اور پھر Elliot اور Dawsons کی کئی جلدوں پر مشتمل کتاب ہسٹری آف انڈیا ایس ٹولڈ ہائی پر ہسٹورینس تک یہ سلسلہ پہنچا۔ اس دور میں مذہب کو حکمرانوں کی حکمرانی کا مرکزی پیمانہ بنا دیا گیا۔ فی الوقت مودی کی سیاست اس نئے تقسیم پیدا کرنے والے محاذ کو کھول رہی ہے اور اس بیانیے میں نہرو کو بھی شامل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ وہ یہ ظاہر کررہے ہیں جیسے نہرو سومناتھ مندر کی تعمیر نو کے مخالف تھے۔ یہ دیکھا جائے تو حقیقت میں سراسر جھوٹ اور دروغ گوئی پر مبنی ہے۔ یہ معاملہ اس وقت اٹھا تھا جب گاندھی بقید حیات تھے اور انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ مندر کی تعمیر کیلئے سرکاری فنڈ استعمال نہیں کئے جانے چاہئے۔ چند سال قبل ملک کی سب سے بڑی عدالت، عدالت عظمی نے بھی یہی رائے دی تھی، جب رام مندر کی منصوبہ بندی ہورہی تھی۔ گاندھی۔ نہرو اور سردار پٹیل سے پوچھا گیا کہ سومناتھ مندر کی تعمیر کیلئے کوئی سرکاری فنڈ دیا جارہا ہے؟ سردار پٹیل نے جواب دیا کہ جب تک میں زندہ ہوں، ایسا کچھ نہیں ہوگا اور تعمیر نو کیلئے چندہ عوام سے جمع کیا جائے گا۔ چنانچہ اس مقصد کو لے کر ایک ٹرسٹ قائم کیا گیا جس کے چیرمین خود سردار پٹیل تھے۔ جبکہ کے ایم منشی اور گڈگل اس ٹرسٹ کے ٹرسٹی تھے جنہوں نے مندر کی تعمیر نو کا کام مکمل کیا۔ جھوٹا پروپگنڈہ یہی پر ختم نہیں ہوتا۔ اس کے بعد مندر کے افتتاح کا معاملہ سامنے آتا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ ڈاکٹر راجندر پرساد کو مندر کے افتتاح کیلئے مدعو کیا گیا اور انہوں نے اس بارے میں نہرو سے دریافت کیا 2 مارچ 1951ء کو پنڈت نہرو کے نام ایک خط میں راجندر پرساد نے اس معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ بحیثیت صدرجمہوریہ نہیں بلکہ شخصی طور پر مندر کا افتتاح کرنے جانا چاہتے ہیں۔ جواب میں پنڈت نہرو نے کہا کہ اگر وہ مندر کا افتتاح کرنے جانا چاہتے ہیں تو انہیں (نہرو) کو کوئی اعتراض نہیں۔ یہی بات پنڈت جواہر لال نہرو نے سی راجگوپال چاری کے نام 11 مارچ 1951ء کو لکھے گئے۔ ایک مکتوب میں کہی (پیوش بابلے کے مطابق) پیوش بابلے نے اس بارے میں شواہد پر مبنی ساری سچائی و حقیقت کی وضاحت کی۔ انہوں نے اس ضمن میں موجودہ وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بنایا اور سوال کیا کہ آخر کیوں سابق صدرجمہوریہ رامناتھ کووند اور موجودہ صدرجمہوریہ دروپدی مرمو کو رام مندر سے جڑی تقاریب میں مدعو نہیں کیا گیا۔ اس بارے میں انہوں نے مزید کہا کہ شاید ان دونوں کو اس لئے مدعو نہیں کیا گیا کیوں کہ ایک دلت اور دوسری قبائیلی ہیں۔ دوسری طرف ہمارے ملک کے مشیر قومی سلامتی اجیت ڈوول نے نئی دہلی میں انڈین یوتھ فیسٹیول کی افتتاحی تقریب کے موقع پر اپنے خطاب میں نوجوانوں کو ایسا مشورہ دیا جو یقیناً ملک و قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی بجائے پسماندگی کی طرف واپس لے جاتا ہے۔ اجیت ڈوول کے مطابق ہماری مندروں کو منہدم کیا گیا۔ ہمارے گاؤں کو لوٹا گیا، تباہ و تاراج کیا گیا۔ اور اب اس کا بدلہ یا انتقام لینے کا وقت آگیا ہے۔ اس لئے نوجوانوں کو انتقام کی آگ اپنے سپنوں میں جلائے رکھنا ہوگا۔ یہاں یہ سوال ہے کہ آیا انتقام عصری قانون نظام کا ایک حصہ نہیں ہے۔ یہ قرون وسطیٰ کا کچرا ہے۔ ہر جرم کیلئے خاطی کو سزا دی جانی چاہئے اور بے قصور کو تحفظ فراہم کیا جانا چاہئے۔ ایسے میں اجیت ڈوول آخر کس مبینہ جرم کی بات کررہے ہیں اور کس سے انتقام لیا جائے، وہ بھی صاف صاف اور واضح طور پر نہیں کہتے۔ اشاروں اشاروں میں انہوں نے جو کچھ بھی کہا، وہ وطن اور اہل وطن کیلئے نقصان دہ ہے۔ مندروں کو مسلم بادشاہوں اور خود ہندو راجاؤں نے منہدم کیا۔ اس کا انتقام کون لے گا؟ کس سے لے گا؟ تاریخ میں دیگر بدترین جرائم کے واقعات پیش آئے لیکن اجیت ڈوول نے ان واقعات کا حوالہ دینا تک گوارا نہیں کیا۔ بدھا ویہار کو تباہ کیا گیا۔ جین مندروں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا۔ دلت اور خواتین کو خطرناک مظالم کا شکار بنایا گیا۔ ملک میں ستی کی رسم تھی۔ کون ان ت