15 سینئر عہدیدار نظرانداز، کانگریس ترجمان ڈی شراون کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔ 3 جنوری (سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے چیف سکریٹری کے عہدے پر سومیش کمار کے تقرر پر اعتراض جتایا ہے۔ اے آئی سی سی ترجمان ڈاکٹر ڈی شراون نے آج میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے چیف سکریٹری کے تقرر میں قواعد کی خلاف ورزی کی ہے۔ 15 سینئر آئی اے ایس عہدیداروں کو نظرانداز کرتے ہوئے سمیش کمار کو اس عہدے پر فائز کیا گیا۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں سومیش کمار نے کمشنر کی حیثیت سے ٹی آر ایس کے حق میں کام کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کیڈر سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں کو نظرانداز کرتے ہوئے آندھرا کیڈر کے سومیش کمار کا تقرر مضحکہ خیز ہے۔ شراون نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر کا دفتر ریٹائرڈ عہدیداروں کے مرکز میں تبدیل ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کو سیاسی طور پر فائدہ پہنچانے کے عوض میں سومیش کمار کو چیف سکریٹری کا عہدہ بطور تحفہ پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقررات کے سلسلہ میں چیف منسٹر تلنگانہ کیڈر سے زیادہ آندھرا کیڈر کے عہدیداروں کو ترجیح دے رہے ہیں جو تلنگانہ عہدیداروں کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں مقامی کیڈر کے عہدیداروں کو نظرانداز کرنے کی شکایات ملی ہیں۔ اہم عہدوں پر اپنے من پسند عہدیداروں کو مقرر کرتے ہوئے سینیارٹی کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کا دفتر جہاں اہم فیصلے ہوتے ہیں وہ ریٹائرڈ عہدیداروں کا اڈہ بن چکا ہے۔ 12 سے زائد ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیداروں کو چیف منسٹر نے ذمہ داریاں دیتے ہوئے اپنے دفتر میں مامور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سومیش کمار کے تقرر سے دوسرے آئی اے ایس عہدیداروں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔