سومیش کمار کے خلاف ہائی کورٹ میں مرکزی حکومت کی درخواست

   

آندھرا کیڈر کے باوجود تلنگانہ میں خدمات انجام دینے پر اعتراض، چار سال سے سماعت نہیں

حیدرآباد: تلنگانہ کے چیف سکریٹری سومیش کمار کے خلاف مرکزی حکومت کی قانونی لڑائی تلنگانہ ہائی کورٹ میں التواء کا شکار ہے ۔ مرکزی حکومت نے آندھراپردیش کیڈر سے تعلق کے باوجود تلنگانہ میں خدمات انجام دینے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ گزشتہ چار برسوں سے ہائی کورٹ میں مرکزی حکومت کی درخواست کی سماعت نہیں ہوسکی۔ واضح رہے کہ آندھراپردیش کی تقسیم کے بعد مرکزی حکومت نے سومیش کمار کو آندھراپردیش کیڈر الاٹ کیا تھا لیکن انہوں نے سنٹرل ایڈمنسٹریٹیو ٹریبونل حیدرآباد بنچ سے احکامات حاصل کرتے ہوئے مارچ 2016 ء سے تلنگانہ میں اپنی خدمات کو برقرار رکھا ہے۔ ہائی کورٹ کے ویب سائیٹس کے مطابق مرکزی ڈپارٹمنٹ آف پرسونل اینڈ ٹریننگ نے فروری 2017 ء میں ایڈمنسٹریٹیو ٹریبونل کے فیصلہ کے خلاف درخواست دائر کی تھی ۔ درخواست قبولیت کیلئے صرف ایک مرتبہ جون 2019 ء میں لسٹ کی گئی۔ اگر یہی صورتحال رہی تو سومیش کمار مزید دو برسوں تک تلنگانہ میں خدمات انجام دیں گے اور ان کی سبکدوشی 2023 ء میں ہے۔ ایڈمنسٹریٹیو ٹریبونل کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی کی شکایت کرتے ہوئے مرکزی محکمہ نے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ محکمہ کے ذرائع کے مطابق فریقین نے اپنے دلائل پیش کردیئے ہیں۔ لہذا میرٹ کی بنیاد پر فیصلہ ہونا چاہئے لیکن عدالت میں اس معاملہ کی ابھی تک مزید سماعت نہیں ہوئی۔ سومیش کمار نے ٹریبونل کو بتایا تھا کہ ان کی اہلیہ ڈی آر ڈی او حیدرآباد میں برسر خدمت ہیں، لہذا انہیں تلنگانہ میں خدمات جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے کیڈر الاٹمنٹ سے متعلق طئے کردہ رہنمایانہ خطوط کو چیلنج کیا تھا۔