سوندرا راجن کے تین سال مکمل، گورنر کے عہدہ کی توہین کی شکایت

   


مجھے کسی کی پرواہ نہیں ، عوامی خدمت کی راہ میں دشواریاں، پرچم کشائی سے محرومی پر افسوس
حیدرآباد ۔8 ۔ ستمبر (سیاست نیوز) ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن نے گورنر تلنگانہ کے عہدہ پر اپنے تین سال مکمل کرلئے ہیں۔ گورنر کی حیثیت سے چوتھے سال کی کارکردگی کے آغاز پر راج بھون میں ایک تقریب منعقد کی گئی ۔ ڈاکٹر سوندرا راجن نے ریاستی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور گورنر کے عہدہ کی توہین کرنے کی شکایت کی ۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے گورنر نے تین سال کے دوران حکومت کی جانب سے مسلسل نظر انداز کرنے اور ان کی نمائندگیوں کو فراموش کرنے کا الزام عائد کیا۔ گورنر نے کہا کہ اگرچہ وہ حکومت کے رویہ سے بے پرواہ ہیں لیکن انہیں اس بات کا دکھ ہے کہ وہ عوامی مسائل کے حل کیلئے خاطر خواہ خدمت نہیں کر پارہی ہے۔ گورنر نے کہا کہ دستوری عہدہ کی بارہا توہین کی گئی اور اضلاع کے دورہ کے موقع پر پروٹوکول نظر انداز کردیا گیا۔ ملک کی آزادی کے 75 سال کی تقاریب کا حوالہ دیتے ہوئے گورنر نے کہا کہ انہیں پرچم کشائی کی اجازت نہیں دی گئی اور انہیں کافی صدمہ پہنچا ہے۔ سوندرا راجن نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کی تاریخ میں یہ ضرور لکھا جائے گا کہ خاتون گورنر کے ساتھ کس طرح کا امتیازی سلوک کیا گیا ۔ مجھے اسمبلی سے خطاب سے روکا گیا اور یوم جمہوریہ کے موقع پر پرچم کشائی کی اجازت نہیں دی گئی۔ آج بھی میں جہاں کہیں جاتی ہوں پروٹوکول نظر انداز کیا جاتا ہے ، حالانکہ گورنر کے عہدہ کا احترام لازمی ہے۔ گورنر نے کہا کہ حال ہی میں کیرالا میں جنوبی ریاستوں کی علاقائی کونسل کا اجلاس منعقد ہوا۔ میں نے لیفٹننٹ گورنر پڈوچیری کی حیثیت سے شرکت کی ۔ اجلاس میں 75 فیصد مسائل تلنگانہ اور آندھراپردیش کے تھے۔ تمام جنوبی ریاستوںکے چیف منسٹرس نے شرکت کی لیکن کے سی آر شریک نہیں ہوئے ۔ مرکزی وزیر داخلہ جب ریاستوں کے درمیان مسائل کے حل کیلئے موجود تھے تو پھر کے سی آر کو اجلاس میں شرکت پر کیا اعتراض تھا۔ کے سی آر نے ریاستوں کے مسائل کی یکسوئی کے اس موقع سے استفادہ کیوں نہیں کیا۔ گورنر نے کہا کہ مرکز کے ساتھ ریاست کو تعلقات استوار رکھنے چاہئے ۔ ریاست میں سرکاری دواخانوں کی ابتر صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے گورنر نے کہا کہ سرکاری دواخانوں کی حالت ٹھیک نہیں ہے اور ایک گورنمنٹ ہاسپٹل کے ڈائرکٹر کو علاج کے لئے خانگی ہاسپٹل میں شریک کیا گیا۔ سیاسی قائدین کو خانگی دواخانوں میں شریک کیا جارہا ہے۔ گورنر نے کہا کہ اگر عوامی نمائندے بہتر طور پر کام کر رہے ہیں اور عوام کے لئے دستیاب ہیں تو پھر عوام اپنے مسائل کیلئے مجھ سے کیوں رجوع ہورہے ہیں۔ گورنر نے شکایت کی کہ اضلاع کے دورہ کے موقع پر کلکٹر اور ایس پی حاضر نہیں ہوتے۔ میں نہیں جانتی کہ وہ غیر حاضری کیلئے کس سے ہدایات پارہے ہیں۔ اگر وہ نہ بھی آئیں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے۔ گورنر نے بتایا کہ حکومت کو کئی مسائل پر نمائندگی کی گئی لیکن حکومت نے نظر انداز کردیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ گورنر ہر جگہ نہیں جاسکتی لیکن حقیقت میں گورنر کیلئے کوئی پابندی نہیں ہے۔ میرا مقصد عوام کی مدد کرنا ہے۔ گورنر نے کہا کہ ان کی صدارت میں منعقدہ پروگرام میں ایک اہم عوامی نمائندہ نے شرکت نہیں کی اور اس کی میرے آفس کو اطلاع تک نہیں دی گئی ۔ گورنر نے کہا کہ عوام کی بھلائی کے راستہ میں اس طرح کی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ ڈاکٹر سوندرا راجن نے کہا کہ اگر میرا احترام نہیں کیا گیا تو مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ میں اس جذبہ کے ساتھ عوام کی خدمت کے لئے آگے بڑھ رہی ہوں کہ میں عہدہ کے اعتبار سے کسی سے کم نہیں ۔ ر