سونم وانگچک کیس: سپریم کورٹ نے حکومت کو نوٹس جاری کیا

   

نئی دہلی: 30 اکتوبر (یو این آئی)سپریم کورٹ نے سماجی کارکن سونم وانگچک کی اہلیہ کی نظرِ ثانی شدہ درخواست پر مرکزی حکومت اور لداخ انتظامیہ سے جواب طلب کیا ہے، جس میں وانگچک کی قومی سلامتی ایکٹ کے تحت حراست کو غیر قانونی اور من مانی کارروائی قرار دیا گیا ہے۔جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریا کی بینچ نے مرکز اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے لداخ کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا کو ہدایت دی کہ وہ گیتانجلی جے انگمو کی نظرِ ثانی شدہ درخواست پر دس دن کے اندر جواب جمع کرائیں۔ کیس کی اگلی سماعت 24 نومبر کو ہوگی۔ بینچ نے سینئر وکیل کپل سبل کو بھی جوابِ دعویٰ جمع کرانے کی اجازت دی۔درخواست میں کہا گیا کہ‘‘حراست کا حکم پرانی ایف آئی آر، مبہم الزامات اور خیالی دعووں پر مبنی ہے۔ اس کا مبینہ بنیادوں سے کوئی حقیقی یا قریبی تعلق نہیں ہے، لہٰذا یہ قانونی طور پر درست نہیں۔ مزید کہا گیا کہ اختیارات کا ایسا من مانی استعمال اقتدار کا سنگین غلط استعمال ہے جو آئینی آزادی اور منصفانہ قانونی عمل کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے، لہٰذا عدالت کو چاہیے کہ اس حراستی حکم کو کالعدم قرار دے۔