آپ کا ریکارڈ بھی نشیب و فراز سے پُر ۔ امیت شاہ نے فساد رکوانے پہلے دن سے ہی فعال کردار ادا کیا
روی شنکر پرساد کی پریس کانفرنس
متاثرہ علاقوں میں نماز جمعہ کے موقع پر پولیس کی طلایہ گردی میں اضافہ
نئی دہلی 28 فروری (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی نے جمعہ کے روز کانگریس صدر سونیا گاندھی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ محترمہ ہمیں راج دھرم نہ سکھائیں اور یہ الزام عائد کیاکہ فرقہ وارانہ فسادات دراصل اپوزیشن قائدین کی بے لگام زبان کی وجہ سے رونما ہوا۔ یاد رہے کہ سونیا گاندھی نے دیگر کانگریس قائدین کے ساتھ صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند سے ملاقات کرتے ہوئے ’’اپنے فرائض انجام دینے میں کوتاہی‘‘ کی بنیاد پر وزیرداخلہ امیت شاہ کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا۔ اُنھوں نے حکومت کو یہ یاد دلانے کی بھی کوشش کی کہ ’’راج دھرم‘‘ پر عمل کرتے ہوئے تمام فرقوں کے تحفظ کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اُس کے بعد بی جے پی آفس پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی قائد روی شنکر پرساد نے امیت شاہ کا دفاع کرتے ہوئے کہاکہ تشدد کو روکنے کے لئے امیت شاہ نے پہلے ہی دن سے فعال کردار ادا کیا۔ جب اُن سے کپل شرما اور پرویش ورما کی جانب سے متنازعہ بیانات دینے کے بارے میں سوال کیا گیا تو پرساد نے کہاکہ پارٹی اُن بیانات کا دفاع نہیں کرے گی۔ اُنھوں نے ایک بار پھر کہاکہ سونیا گاندھی جی، ہمیں راج دھرم مت سکھایئے۔ آپ کا ریکارڈ بھی نشیب و فراز سے پُر ہے۔ اُنھوں نے مزید کہاکہ این پی آر کا آغاز کانگریس کی قیادت والی حکومت نے کیا تھا۔ پرساد نے کہاکہ اگر کانگریس کچھ کرتی ہے تو وہ اچھا ہے اور اگر وہی کام ہم کرتے ہیں تو کانگریس عوام کو بھڑکانے اور گمراہ کرنے کا کام کرتی ہے۔ یہ کس نوعیت کا راج دھرم ہے؟ اس موقع پر اُنھوں نے رام لیلا میدان میں سونیا گاندھی کے ایک بیان کا حوالہ دیا جس میں اُنھوں نے (سونیا) کہا تھا کہ ’’آخری سانس تک لڑو‘‘ کیا ایسے بیانات اشتعال انگیز نہیں ہیں؟ اُنھوں نے کانگریس پر الزام عائد کیاکہ پڑوسی ممالک میں ظلم و ستم کا شکار اقلیتوں کو ہندوستانی شہریت دیئے جانے کے اپنے موقف سے کانگریس نے منہ پھیر لیا ہے کیوں کہ کانگریس کے لئے پارٹی اور ارکان خاندان ملک سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ اس دوران شمال مشرقی دہلی میں حالات آہستہ آہستہ معمول پر آرہے ہیں جبکہ نیم فوجی دستے وہاں مسلسل گشت کررہے ہیں اور خصوصی طور پر جمعہ کی نماز کے وقت طلایہ گردی میں اضافہ کردیا گیا۔ پولیس افسران کا کہنا ہے کہ فلیگ مارچ وقفہ وقفہ سے کیا جارہا ہے تاکہ لوگوں کے دل سے خوف و ہراس ختم کیا جاسکے اور اُن کے اعتماد میں اضافہ کیا جاسکے۔ یاد رہے کہ متاثرہ علاقوں میں 7000 نیم فوجی دستوں کو تعینات کیا گیا ہے جبکہ فسادات میں مہلوکین کی تعداد 38 بتائی گئی ہے اور زائداز 200 افراد زخمی ہیں۔
