سونیا گاندھی کی پارٹی کے سینئر قائدین سے ملاقات حوصلہ افزاء

   


تنظیمی تبدیلیاںپارٹی کے آئندہ اقتدار کی ضمانت، محمد علی شبیر کا بیان

حیدرآباد۔ تلنگانہ قانون ساز کونسل کے سابق قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے کانگریس پارٹی میں مجوزہ تنظیمی تبدیلیوں کا خیرمقدم کیا اور اُمید ظاہر کی ہے کہ اس فیصلہ سے ملک بھر میں بنیادی سطح پر کانگریس پارٹی کے استحکام میں مدد ملے گی۔ نئی دہلی میں صدر کانگریس سونیا گاندھی سے پارٹی کے سینئر قائدین کی ملاقات کے پس منظر میں محمد علی شبیر نے کہا کہ صدر کانگریس نے تنظیمی ڈھانچہ اور پارٹی کی کارکردگی میں اہم تبدیلیوں سے اتفاق کیا ہے جو پارٹی کے مستقبل کیلئے خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ تبدیلیوں سے نہ صرف تلنگانہ بلکہ دیگر ریاستوں میں پارٹی مستحکم ہوگی اور کیڈر کے حوصلے بلند ہوں گے۔ کانگریس پارٹی تلنگانہ میں رکنیت سازی کے اعتبار سے سب سے بڑی پارٹی کا موقف رکھتی ہے اور ہر پولنگ اسٹیشن کی سطح پر پارٹی کا مضبوط کیڈر موجود ہے۔ 2014 میں علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد سے پارٹی کو انتخابات میں متواتر شکست نے کیڈر کے حوصلوں کو پست کردیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ ہار اور جیت انتخابی عمل کا حصہ ہے اور کانگریس نے اپنی تاریخ میں کئی عروج اور زوال دیکھے ہیں۔ سابق میں انتخابات میں شکست کے باوجود کانگریس نے اپنے نظریات سے منہ نہیں موڑا اور عوامی خدمت کو جاری رکھتے ہوئے دوبارہ اقتدار حاصل کیا۔ کانگریس نے انتخابی فائدوں کیلئے کبھی بھی عوام کو دھوکہ نہیں دیا جبکہ دیگر پارٹیوں نے دولت اور طاقت کا استعمال کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی ہے۔ کانگریس اس طرح کے حربوں پر یقین نہیں رکھتی اور اس نے ہمیشہ اصول پسند سیاست پر عمل کیا ہے۔ محمد علی شبیر نے راہول گاندھی کو آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے صدر کے عہدہ پر فائز کئے جانے کی تجویز کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ کانگریس کیڈر راہول گاندھی کے ساتھ ہے جو پارٹی کی بہتر طور پر رہنمائی کرتے ہوئے آئندہ الیکشن میں برسر اقتدار لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ چنتن بیٹھک میں پارٹی کے تمام قائدین کو اظہار خیال کا موقع ملے گا۔ 2003 میں اسی طرح کی چنتن بیٹھک کے بعد 2004 میں کانگریس برسراقتدار آئی تھی۔ انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ آئندہ انتخابات میں مرکز اور تلنگانہ دونوں میں کانگریس برسراقتدار آئے گی۔