دھاتوں کی تجارت میں گھاٹا، اسمگلنگ بڑھ جائے گی، عوام پر بھی منفی اثر
حیدرآباد۔7جولائی (سیاست نیوز) سونے پر حکومت کی جانب سے عائد کی جانے والی کسٹمس ڈیوٹی میں اضافہ کے سبب سونے کی اسمگلنگ میں اضافہ ہوگا۔ سونے کے تاجرین کا کہناہے کہ حکومت کا یہ اقدام ملک کی سونے ‘ چاندی ‘ ہیرے اور دیگر قیمتی دھاتوں کی تجارت کیلئے نقصاندہ ثابت ہوگا اور سونے و دیگر قیمتی دھاتوں کی غیر قانونی خرید و فروخت میں اضافہ ریکارڈ کیا جائے گا۔ بجٹ میں حکومت نے 10فیصد کسٹمس ڈیوٹی کو بڑھاتے ہوئے سونے پر کسٹمس ڈیوٹی کو 12.5فیصد کردیا ہے جس کے نتیجہ میں سونے کی قیمت میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور کہا جار ہاہے کہ آئندہ دنو ںمیں سونے کی قیمتو ںمیں مزید اضافہ ریکارڈ کیا جائے گا لیکن بازار میں غیر صحتمندانہ تجارت اور مسابقت میں اضافہ کا خدشہ ہے کیونکہ سونے کی اسمگلنگ کے ذریعہ ہندستان منتقلی اور اس کی تجارت کم قیمت میں ہونے لگے گی اور اب جن لوگوں کا رجحان کم قیمتی بیرون ملک کے غیر مجاز سونے کی سمت نہیں تھا وہ لوگ بھی اسمگلنگ کے ذریعہ ملک پہنچنے والے سونے کی خریدی میں دلچسپی دکھائیں گے۔ تاجرین کا ماننا ہے کہ ملک میں حکومت کے اس اقدام سے نہ صرف سونے کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا جائے گا بلکہ تجارت پر اس کے منفی اثرات رونما ہوں گے کیونکہ متوسط طبقہ کی سونے کی خریدی میں دلچسپی کم ہونے کے علاوہ غیر قانونی طور پر منتقل کئے جانے والے سونے کی فروخت میں اضافہ کا خدشہ ہے۔ حکومت کی جانب سے سونے پر عائد کی جانے والی کسٹمس ڈیوٹی میں اضافہ کا مقصد سرکاری آمدنی میں اضافہ ہے لیکن تاجرین کا کہناہے کہ ایسا کرنے سے سونے کی فروخت پر منفی اثر ہونے کا خدشہ ہے جس سے سرکاری آمدنی میں اضافہ کے بجائے کمی واقع ہوگی۔ حکومت ہند کی جانب سے اسمگلنگ کو روکنے اورملک میں غیر قانونی سونے کی منتقلی کو بند کرنے کے لئے کسٹمس ڈیوٹی میں کمی کرنے کے سلسلہ میں حکمت عملی تیار کی جا رہی تھی اور کہا جا رہا تھا کہ حکومت کا یہ اقدام سونے کی اسمگلنگ کرنے والوں پر کاری ضرب ثابت ہوگا لیکن بجٹ میں کئے گئے اس فیصلہ کے سبب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کی جانب سے سونے کی اسمگلنگ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے جو کہ ملک میں غیر قانونی طور پر سونے کی منتقلی انجام دینے میں مصروف ہیں۔ سونے کے تاجرین کا کہنا ہے کہ حکومت کے فیصلہ سے عوام ہی نہیں بلکہ سونے کے تاجرین اورخود حکومت کو بھی نقصان ہوگا کیونکہ اس فیصلہ سے فروخت متاثر ہوگی۔
