آٹو، کیاب، ایل پی جی ڈیلیوری، پٹرول پمپس ،کرانہ، ترکاری، گوشت تاجرین کی نشاندہی،ہریش راؤ کا اجلاس
حیدرآباد۔ حکومت نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے سوپر اسپریڈرس کی نشاندہی کرتے ہوئے 28 مئی سے ریاست بھر میں 30 لاکھ سے زائد سوپر اسپریڈرس کو ٹیکہ اندازی کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کو موصولہ رپورٹ کے مطابق وائرس کے پھیلاؤ کیلئے کئی شعبہ جات سے وابستہ افراد ذمہ دار ہیں۔ محکمہ صحت نے ان شعبہ جات کی نشاندہی کی ہے جن میں آٹو ڈرائیورس، ایل پی جی ڈیلیوری اسٹاف، فیئر پرائس شاپ ڈیلرس، پٹرول پمپ ورکرس، کیاب ڈرائیورس، رعیتو بازار کے تاجرین، فروٹ، ویجیٹل اور فلاور مارکٹ کے تاجرین، کرانہ شاپس، شراب کی دکانات، نان ویجیٹیرین مارکٹس شامل ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان مقامات پر کام کرنے والے افراد اور مقامات سے وائرس کے پھیلاؤ کا زیادہ اندیشہ ہے لہذا پہلے ان تمام کی ٹیکہ اندازی کی جائے۔ 30 لاکھ افراد کا نشانہ مقرر کیا گیا ہے جن کیلئے 28 مئی سے ٹیکہ اندازی ہوگی۔ اسی دوران چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے کل کورونا کے مسئلہ پر منعقدہ جائزہ اجلاس میں وزیر فینانس ہریش راؤ کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ریاست میں ٹیکہ اندازی میں تیزی پیدا کرنے کیلئے جائزہ اجلاس طلب کریں۔ ہریش راؤ نے آج چیف سکریٹری سومیش کمار کے ہمراہ بی آر کے بھون میں اجلاس منعقد کیا جس میں کورونا پھیلانے میں معاون تمام افراد کو ویکسین کی خوراک دینے کا جائزہ لیا گیا۔ کورونا کے پھیلاؤ میں معاون افراد جنہیں سوپر اسپریڈر کہا جاتا ہے ان کی نشاندہی کے علاوہ دیگر احتیاطی تدابیر پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں سکریٹری ہیلت اینڈ فیملی ویلفیر مرتضیٰ علی رضوی، کمشنر جی ایچ ایم سی لوکیش کمار، کمشنر میڈیکل اینڈ ہیلت ستیہ نارائنا، کمشنر ٹرانسپورٹ ایم آر راؤ، ڈائرکٹر پبلک ہیلت سرینواس راؤ اور دیگر عہدیدار موجود تھے۔