سوچھتا دیوس کے باوجود شہر میں کچرے کا انبار

   

صورتحال سنگین ، جی ایچ ایم سی خواب غفلت میں
حیدرآباد۔3اکٹوبر(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں گذشتہ یوم مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے اور ملک میں حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر سوچھتا دیوس ’’یوم صفائی ‘‘ منایا گیا اور ملک بھر میں کئی سرکردہ شہریوں نے ان پروگرامس میں حصہ لیتے ہوئے صفائی کی اہمیت کو اجاگر کیا اور جی ایچ ایم سی کی جانب سے شہر حیدرآباد میں صفائی کو یقینی بنانے میں عوام کے تعاون کے لئے شعور بیداری مہم چلانے کا بھی فیصلہ کیا گیا لیکن 2 اکٹوبر کو منائے گئے اس یوم کے دوسرے ہی دن شہر میں موجود کچہرے کی کنڈیوں پر کچہرے کے انبار سے یہ واضح ہورہا ہے کہ حکومت اور جی ایچ ایم سی کو اس مسئلہ کی سنگین نوعیت کا اندازہ نہیں ہے اور نہ ہی حکومت یا جی ایچ ایم سی کی جانب سے شہر میں صفائی کو یقینی بنانے کے لئے کوئی منظم اقدامات کئے جارہے ہیں بلکہ عوام پر انحصار کرتے ہوئے یہ تاثر دیا جا رہاہے کہ جی ایچ ایم سی اپنی ذمہ داری کو پورا کردیا ہے اور اب عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ کچہرا سڑک پر پھینکنے سے اجتناب کریں۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے شہر کے مختلف مقامات پر زیر زمین کچہرے دانوں کی تعمیر کے منصوبہ کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کی سمت تاحال کوئی پیشرفت ہوتی نظر نہیں آرہی ہے بلکہ شہر کی صفائی کو یقینی بنانے کا منصوبہ تیار کرنے والے انتہائی مستعد عہدیدار مسٹر روی کرن کا تبادلہ کرتے ہوئے انہیں کمشنر ورنگل میونسپل کارپوریشن کے عہدہ پر فائز کردیا گیا جبکہ مسٹر روی کرن کے دور میں جب وہ اڈیشنل کمشنر ہیلت اینڈ سینیٹیشن ہوا کرتے تھے نہ صرف شہر کے تمام علاقوں سے بلکہ پرانے شہر میں بھی روزانہ کچہرے کی نکاسی عمل میں لائی جاتی تھی لیکن اب پرانے شہر میں سڑکوں پر ڈالے جانے والے کچہرے کی کسی کو کوئی پرواہ نہیں ہے بلکہ کچہرے کی نکاسی عمل میں لانے کی ذمہ داری جن پر عائد ہوتی ہے وہ بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ پرانے شہر میں توقع سے زیادہ کچہرا نکل رہا ہے اسی لئے اس کی روزانہ نکاسی ممکن نہیں ہے۔ پرانے شہر کے کئی علاقوں جہاں نما‘ فلک نما‘ شاہ علی بنڈہ‘ انجن باؤلی چوراہا‘ یاقوت پورہ ‘ ملک پیٹ اور چنچل گوڑہ ‘ دبیر پورہ اور عیدی بازار کے علاقوں سے کچہرے کی عدم نکاسی کی شکایات معمول بنتی جا رہی ہیں اور عہدیداروں سے دریافت کرنے پر یہ کہا جا رہاہے کہ شہر حیدرآباد میں روزانہ کچہرے کی نکاسی عمل میں لائی جا رہی ہے لیکن اس کے باوجود شہریوں کی جانب سے ایسے مقامات پر کچہرا پھینک دیا جا رہاہے جہاں کچہرے دان بھی موجود نہیں ہے۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے اگر محکمہ پولیس کی مدد حاصل کرتے ہوئے کچہرا پھینکنے والوں کی سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعہ نشاندہی کرتے ہوئے ان پر بھاری چالانات کئے جاتے ہیں تو سڑکوں پر کچہرا پھینکنے کا سلسلہ بند ہوسکتا ہے۔