خرطوم: سوڈان کی مسلح افواج نے کہا ہے کہ دارالحکومت خرطوم میں بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کے قافلے پرہونے والے حملے سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔کل سوموار کو ریڈ کراس نے کہا تھا کہ طبی ٹیم متحارب فریقین کی درخواست پر زخمیوں کو لے جا رہی تھی جب اس پر حملہ کیا گیا۔ سوڈانی فوج نے اس معاملے کی ذمہ داری سے انکار کیا ہے۔فوج نے ایک بیان میں اس واقعے سے لا تعلقی کا اظہار کرتے ہوئے وضاحت کی کہ جس علاقے میں فائرنگ ہوئی وہ ریپڈ سپورٹ فورسز(آر ایس ایف) کے کنٹرول میں ہے۔فوج کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ریڈ کراس مشن کے نمائندوں نے متعدد زخمی فوجیوں کو بحری سے ام درمان منتقل کرنے کا عمل شروع کیا۔ بحری پہنچنے پر انہوں نے اطلاع دی کہ انہیں کبری کوپر میں ایک سنائپر نے گولیوں کا نشانہ بنایا ہے۔بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ اس علاقے میں مسلح افواج کا کوئی فوجی نہیں ہے اور یہ کہ ریپڈ سپورٹ فورسز وہاں موجود ہیں۔سوڈانی فوج نے ریڈ کراس کے نمائندوں پر انخلاء کے پروٹوکول اور نقل و حرکت کے مخصوص نقشے کی مکمل پابندی نہ کرنے کا الزام بھی لگایا۔ فوج نے اس امید کا اظہار کیا کہ ریڈ کراس اپنے کام کے اصولوں اور طے شدہ اصولوں کے مطابق اپنا انسانی مشن انجام دے گی۔