سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات کیلئے تیار؟

   

Ferty9 Clinic

خرطوم: سوڈان کے وزیر اعظم عبداللہ حمدوک عبوری پارلیمنٹ (جس کی ابھی تک تشکیل نہیں ہوئی ہے) کی جانب سے منظوری کے بعد اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات بحال کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ بات سوڈانی حکومت کے دو ذرائع نے روئٹرز نیوز ایجنسی کو جمعرات کے روز بتائی۔یہ بیان اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ حمدوک سوڈان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کے قیام کے بارے میں سوچنے کے لیے تیار ہیں۔البتہ یہ پیش رفت عن قریب ممکن نہیں ہو گی اس لیے کہ ابھی تک سوڈانی فوج اور شہریوں کے درمیان اقتدار کی تقسیم کے معاہدے کی رْو سے پارلیمنٹ کی تشکیل عمل میں نہیں آئی ہے۔ معزول صدر عمر البشیر کی حکومت ختم ہونے کے بعد اپریل 2019ء سے فوج اور شہری ساتھ مل کر سوڈان کے ملکی معاملات چلا رہے ہیں۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ پارلیمنٹ کی تشکیل کب تک عمل میں آئے گیسیاسی منتقلی کی قیادت کرنے والی عسکری شخصیات کی جانب سے اس بات کا اظہار ہو رہا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات کے حوالے سے فراخی کا موقف رکھتے ہیں۔ تاہم شہری جماعتیں جن میں بائیں بازو کے سیاست دان شامل ہیں وہ اس معاملے میں زیادہ ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ایک اعلی سطح کے سوڈانی ذریعہ نے روئٹرز کو بتایا کہ وزیراعظم حمدوک اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام کے حوالے سے ان اقدامات میں آگے بڑھنے پر آمادہ ہو جائیں گے جن کا اظہار خود مختار کونسل کے سربراہ عبدالفتاح کی جانب سے کیا گیا۔ البتہ شرط یہ ہے کہ قانون ساز کونسل اپنی تشکیل کے بعد اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات کے فیصلے کی منظوری دے۔