خرطوم: اقوام متحدہ کے مطابق سوڈان میں خوراک کی بدترین قلت چودہ علاقوں تک پھیل چکی ہے، جن میں پہلے غیر متاثرہ علاقے بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک کی نصف سے زیادہ آبادی کو ’’بحران یا بدترین حالات‘‘ کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کی طرف سے جمعرات کے روز جاری ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سوڈان میں پچھلے چودہ ماہ کے تنازع کے بعد تقریباً 8.5 ملین افراد کو خوراک کی شدید قلّت کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھوک اب دارالحکومت خرطوم اور جزیرہ صوبے تک پھیل چکی ہے، جسے کبھی سوڈان کی ‘روٹی کی ٹوکری’ کہا جاتا تھا۔یہ نتائج انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) اقدام سے سامنے آئے ہیں، جس میں اقوام متحدہ کی ایک درجن سے زیادہ ایجنسیاں، امدادی گروپ، حکومتیں اور دیگر ادارے شامل ہیں۔آئی پی سی نے پایا کہ آنے والے مہینوں میں 10 صوبوں میں 755000 لوگوں کو بھوک کی بدترین سطح کا سامنا ہے، جسے فیز 5 کہا جاتا ہے۔ ان صوبوں میں دارفور کی پانچ ریاستیں، جنوبی اور شمالی کردفان، نیل ابیض، الجزیرہ اور خرطوم شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ملک کی 18 فیصد آبادی یا 85 لاکھ لوگوں کو ہنگامی درجے کا غذائی عدم تحفظ درپیش ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جنگ زدہ سوڈان کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے اور ملک کے کم از کم 14 علاقوں میں بلند ترین درجہ کے قحط کا خطرہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ تنازعہ نے نہ صرف بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور سپلائی کے راستوں، مارکیٹ کے نظام اور زرعی پیداوار میں خلل پیدا کیا ہے، بلکہ اس نے ضروری انسانی امداد تک رسائی کو بھی شدید طور پر محدود کر دیا ہے، جس سے پہلے سے ہی سنگین صورتحال مزید ابتر ہو گئی ہے۔ رپورٹ میں مزید 8.5 ملین افراد کو فاقہ کشی کی دوسری بلند ترین سطح، فیز 4 میں درجہ بند کیا گیا ہے۔شمال مشرقی افریقی ملک گزشتہ سال اپریل میں اس وقت افراتفری کا شکار ہو گیا تھا جب اس ملک کی فوج، جس کی سربراہی جنرل عبدالفتاح برہان کر رہے تھے، اور ایک نیم فوجی گروپ، ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان لڑائی چھڑ گئی تھی۔
