سوڈان کا اسرائیل سے تعلقات برقرار رکھنے کا عزم

   

عالمی پابندی کی دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں، عبوری حکومت کے سربراہ کا انٹرویو

خرطوم: سوڈان میں عبوری حکومت کے سربراہ فوجی کمانڈر جنرل عبدالفتاح البرہان نے فوجی بغاوت کے بعد حکومت قائم کرنے پر عالمی پابندیوں کی دھمکیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اسرائیل سے تعلقات برقرار رکھنے کا عندیہ ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سوڈان کے ملٹری کمانڈر جنرل عبدالفتاح البرہان نے کہا ہے کہ مغربی ممالک کی فوجی بغاوت کے خلاف مظاہروں پر طاقت کے استعمال پر عالمی پابندیوں کی دھمکیوں کی پرواہ نہیں۔ فوجی بغاوت کے بعد اپنے پہلے ٹی وی انٹرویو میں جنرل عبدالفتاح البرہان نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کے نتیجے میں سوڈان میں جنگجووں کے خلاف کریک ڈاون میں مدد ملی۔ اپنے انٹرویو میں سوڈان کی عبوری حکومت کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ امریکہ کی جانب سے فوجی بغاوت مخالف احتجاج پر فائرنگ میں 75 سے زائد ہلاکتوں کی تشویش اور پابندیوں کی دھمکیوں پر جنرل الفتاح نے کہا کہ امریکہ کو غلط معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ فوجی سربراہ نے کہا کہ میں نے خود تحقیقات کرائی ہیں ایسے واقعات میں 6 سے 7 جانیں گئی ہیں جن پر انکوائری کمیٹی بنائی ہے اس لیے پابندیوں کی دھمکیاں بلاجواز ہیں۔