سوڈان کا نام دہشت گردی کے سرپرست ممالک کی فہرست میں باقی

   

Ferty9 Clinic

خرطوم ۔ 25 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) سوڈان کا نام دہشت گردی کے سرپرست ممالک سے متعلق امریکی فہرست سے خارج کروانے کے لیے گذشتہ چند ماہ کے دوران بھرپور کوششیں دیکھنے میں آئیں۔ ان ہی کوششوں کے ضمن میں سوڈانی حکومت کے سربراہ عبداللہ حمدوک کا واشگنٹن کا دورہ بھی شامل تھا۔تاہم تنزانیہ اور کینیا میں امریکی سفارت خانوں پر حملوں میں زخمی ہونے والے افراد امریکی عدالت عظمی کے سامنے طویل قطار میں کھڑے ہیں۔ اس کے سبب سوڈان کی امیدوں پر پانی پھر سکتا ہے۔مذکورہ صفوں میں کھڑے تنزانیہ کے دارالحکومت دارالسلام میں امریکی سفارت خانے میں کام کرنے والے ایک شخص نے بتایا کہ وہ کس طرح دھماکے میں موت کے منہ میں جانے سے بچا۔ اس کے جائے حادثہ سے گزرنے کے چند لمحے بعد دھماکہ ہوا جس کے سبب وہ معمولی طور پر زخمی ہوا۔عدالت عظمی کے سامنے کھڑے ہجوم میں دونوں حملوں میں جان سے ہاتھ دھونے والوں کے عزیز و اقارب بھی موجود ہیں۔ یہ لوگ اپنے عزیزوں کے لیے ہرجانہ طلب کر رہے ہیں۔ بالخصوص سوڈان پر الزام ہے کہ وہ 90ء کی دہائی میں القاعدہ تنظیم کو سپورٹ فراہم کر رہا تھا۔ اس دوران تنظیم نے خرطوم حکومت کی سپورٹ سے دارالسلام اور نیروبی میں امریکی سفارت خانوں کو حملوں کا نشانہ بنایا۔اس سے قبل عدالتیں متاثرہ افراد کے لیے 4.3 ارب ڈالر تک کے ہرجانہ کا فیصلہ دے چکی ہیں۔