سوڈان کے الفشر میں آر ایس ایف کے حملے ،32 شہریوں کی موت

   

خرطوم:سوڈانی فوج نے بتایا کہ شمالی دارفور ریاست کے دارالحکومت الفشر پر باغی نیم فوجی دستے ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے حملے میں کم از کم 32 عام شہری مارے گئے ۔سوڈانی مسلح افواج (ایس اے ایف) کی چھٹی انفنٹری ڈویژن کی کمانڈ نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ ملیشیاؤں نے آج الفشر پر کئی خودکش ڈرون لانچ کیے اور ساتھ ہی اس قصبے پر گولہ باری کی۔ فوج نے بتایا کہ مرنے والوں میں چار خواتین اور 10 بچے شامل ہیں جبکہ 17 دیگر زخمی ہیں جنہیں ہاسپٹل میں داخل کرایا گیا ہے ۔الفشر میں ایک مقامی رضاکار گروپ نے آر ایس ایف کے حملے کی تصدیق کی اور کہا کہ ڈرون اور توپ خانے نے شہر کے شمالی اور مشرقی حصوں کو نشانہ بنایا۔ گروپ نے شہر میں جاری ڈرون سرگرمیوں کی وجہ سے رہائشیوں سے سڑکوں سے دور رہنے کو کہا ہے۔سوڈانی ڈاکٹروں کے نیٹ ورک نے الفشر کے قریب زمزم کی نقل مکانی کے کیمپ پر آر ایس ایف کے دوسرے حملے کی اطلاع دی، حالانکہ اس میں جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔ نیٹ ورک نے حملے میں شدید گولی باری کی سخت مذمت کی۔شمالی دارفور کی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل ابراہیم خطیر نے زمزم کیمپ پر حملے کی تصدیق کی اور کہا کہ شہر سے اس کا فاصلے اور مواصلاتی مسائل کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے ۔واضح رہے کہ سوڈانی فوج اور آر ایس ایف کے درمیان الفشر میں 10 مئی 2024 سے شدید لڑائی جاری ہے جو اپریل 2023 سے سوڈان میں جاری وسیع تر تنازعہ کا حصہ ہے ۔اقوام متحدہ کے حوالے سے مسلح تصادم کا مقام اور ایونٹ ڈیٹا پروجیکٹ کے مطابق دونوں گروپوں کے درمیان ہونے والی لڑائی میں 29,683 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کی رپورٹ کے مطابق اس کی وجہ سے ڈیڑھ کروڑ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔