خرطوم: سوڈان میں متحارب فوجی گروپوں میں جنگ بندی کے امکانات معدوم ہو گئے ، سوڈان کے آرمی کمانڈر البرہان نے کہا کہ جنگ بندی کے بغیر مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔ سوڈان کے فوجی حکمران جنرل عبدالفتاح البرہان نے جنگ بندی کے بغیر مذاکرات مسترد کردیئے ہیں، ان کا کہنا ہیکہ سعودی عرب میں پیرا ملٹری فورسز کیساتھ ہونے والے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔البرہان نے کہا کہ خرطوم سمیت ملک بھر میں مستقل جنگ بندی کے بغیر آر ایس ایف کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے ، اگر دارالحکومت خرطوم میں تقسیم ہوئی تو جنگ پورے سوڈان میں پھیل جائے گی۔سوڈان میں 15 اپریل سے دو فوجی گروپوں کے درمیان شروع ہونے والی لڑائی میں اب تک 551 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔البرہان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب متحارب دھڑے جدہ میں خوں ریزی کو ختم کرنے کیلئے بات چیت کر رہے ہیں، جس میں اب تک سینکڑوں افراد ہلاک اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی شروع ہوچکی ہے۔
سعودی عرب کے شہر جدہ میں سوڈانی فوج اور حریف نیم فوجی دستے آر ایس ایف کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہفتے کو ہوا، ان مذاکرات کو امریکہ کی حمایت حاصل ہے۔