میونسپلٹی کے فیصلے پر ایک اسکول میں ہیڈماسٹر سے اسٹاف تک کوئی بھی تعمیل کیلئے تیار نہیں
اسٹاکہوم ، 15 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) دائیں بازو والے سویڈن ڈیموکریٹس کی تجویز پر جنوبی سویڈن میں اسکورپ کی میونسپلٹی نے اپنے پرائمری اور پری اسکولز میں مذہبی حجاب پر امتناع عائد کردیا۔ اس پر بطور احتجاج غیرمسلم ٹیچروں نے پردہ کا استعمال شروع کردیا۔ لبرل۔ کنزرویٹیو ماڈریٹس اور مقامی اسکورپ پارٹی کی حمایت کے ساتھ عائد کردہ امتناع کا اطلاق بچوں اور اسٹاف دونوں پر ہوتا ہے۔ سویڈن کے ایک اخبار Aftonbladet کے مطابق اس امتناع نے جذبات بھڑکا دیئے جبکہ مالمو کے نوجوان مسلمان اور جوابی احتجاجات اسکورپ کے ٹاؤن ہال کے باہر منعقد کئے گئے۔ مالمو کے ینگ مسلمس کی چیئر تسنیم رؤف نے کہا کہ امتناع کا اقدام ’’نسل پرستانہ‘‘ ہے اور یہ مسلم خواتین کو اپنے شخصی حقوق اور اُن کی جمہوری پسند ِ آزادی سے محروم کرتا ہے۔ درجن بھر مخالف احتجاجیوں نے ’’فریڈم فار سویڈز‘‘ اور ’’کلوز اسلام‘‘ جیسے نعرے لگائے۔ بعد میں چھ غیرمسلم ٹیچرز نے ایک اسکول میں پردہ کا استعمال کرتے ہوئے مسلم اسٹوڈنٹس کے تئیں اپنی حمایت کا اظہار کیا۔ ٹیچر میریٹ جو سویڈش کو بطور دوسری زبان پڑھاتی ہے، اس نے اخبار کو بتایا کہ اسٹوڈنٹس کو خوشی ہوئی جب انھوں نے ہم کو بھی پردے کا استعمال کرتے دیکھا۔ انھیں احساس ہوتا ہے کہ ہم ان کی تائید کررہے ہیں۔ اسکول کے ہیڈماسٹر ماتیاس لیڈوم نے کہا کہ وہ میونسپلٹی کے فیصلے کی تعمیل سے انکار کرتے ہیں۔ ’’نہ میں اور نا میرے رفقائے کار میں سے کوئی اس کو لاگو کرے گا۔ ‘‘