مغربی بنگال بی جے پی کے مسئلہ پر غور کرنے مرکزسے مطالبہ، مشرقی ریاست میں حصول اقتدار کی سمت کوشش
کولکتہ ۔ 23 ۔ اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) مغربی بنگال میں بی جے پی قیادت سٹیزن شپ (ترمیمی) بل سے چھ سال سکونت پدیری کے زمرہ کو حذف کرنے پر زور دے رہی ہے ۔ بی جے پی قیادت نے مرکزی وزیر داخلہ و صدر بی جے پی امیت شاہ پر زور دیا ہے کہ وہ اس کا جائزہ لیں ۔ بی جے پی ذرائع کے مطابق سٹیزن ترمیمی بل توقع ہے کہ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں دوبارہ پیش کی جائے گی۔ سٹیزن شپ ترمیمی بل کے ذریعہ بنگلہ دیش پاکستان اور افغانستان کے ہندوؤں ، جین کرسچین ، سکھ ، بدھسٹ اور پارسیوں کو چھ سال ہندوستان میں سکونت اختیار کرنے کی صورت میں ہندوستانی شہریت دی جائے گی جبکہ اس کی موجودہ مدت بارہ سال ہے۔ اس کے لئے اگر ان کے یہاں کسی دستاویز ہونے کی ضرورت بھی نہیں ہے ۔ ریاستی بی جے پی کے جنرل سکریٹری سیانتن باسو نے نیوز ایجنسی کو بتایا کہ چھ سال قیام پذیر ہونے کے زمرہ کے بجائے اس بات کو یقینی بنانے کا قاعدہ ہونا چاہئے کہ اگر کوئی اپنے مذہبی تشخص کے تحفظ کیلئے ملک کو آتا ہے تو اس مرد یا عورت کو صرف ایک حلف نامہ داخل کرنا چاہئے ۔ حقیقی وجہ جاننے اور اس تصدیق کیلئے کارروائی کی جاسکتی ہے اور پھر شہریت منظور کی جاس کتی ہے ۔ باسو نے بتایا کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کواس نکتہ سے پہلے ہی واقف کروایا جاچکا ہے اور انہوں نے اس پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔ مغربی بنگال بی جے پی یونٹ کا یہ نکتہ نظر ہے کہ چھ سال قیام کے زمرہ کو ترمیمی بل سے برخواست کیا جائے کیونکہ ترنمول کانگریس پوری طرح این آر سی اور سی اے بی کے خلاف ہے ۔ آسام میں این آر سی کی قطعی اجرائی کے بعد 19.6 لاکھ افراد کو فہرست سے نکال دیا گیا تھا جن میں 12 لاکھ ہندو اور بنگالی ہندو ہیں۔ انہوں نے بہت حد تک ریاست میں اپنی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرلی ہیں جس سے بی جے پی کے مقابل ترنمول کانگریس کو فائدہ ہونے کی امید ہے ۔
بنگال بی جے پی کا کہنا ہے کہ اگر وہ برسر اقتدار آتی ہے تو سب سے ترمیمی بل پر عمل کرتے ہوئے پناہ گزینوں کو شہریت دے گی اور اس کے بعد دراندازوں کو باہر نکالنے کے لئے این آر سی کو لاگو کیا جائے گا۔ ریاستی بی جے پی ذرائع یکم اکتوبرکو وزیر داخلہ امیت شاہ کے دورہ کے موقع پر انہوںنے ریاستی پارٹی قیادت سے کہا تھا کہ وہ برسر اقتدار ترنمول کانگریس کی اس مہم کے اثر کو کم کرنے کیلئے عوام میں سی اے بی سے متعلق شعور بیدار کرنا شروع کریں۔ ترنمول کانگریس یہ مہم چلا رہی ہے کہ بی جے پی این ار سی کے ذریعہ ریاست میں دہشت پیدا کر رہی ہے ۔ ایک اور بی جے پی قائد نے بتایا کہ جب بھی وہ سی اے بی سے متعلق عوام میں شعور بیدار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، انہیں چھ سال قیام پذیر ہونے سے متعلق سوالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ عوام ان خدشات کا اظہار کر رہے ہیں جس سے عوام میں الجھن پیدا ہورہی ہے۔ بی جے پی قومی سکریٹری راہول سنہا کے مطابق سٹیزن شپ ترمیمی بل پارلیمنٹ میں جلد ہی پیش کی جائے گی ۔ بی جے پی رفیوجی سل کے سربراہ موہت رائے نے پہلے ہی یہ اعتراف کیا ہے کہ آسام میں قطعی این ار سی کی اجرائی سے پارٹی کو نقصان پہنچا ہے ۔ انہوںنے تاہم یہ تیقن دیا ہے کہ جن ہندوؤں کو فہرست سے نکال دیا گیا ہے ۔ سی اے بی پر عمل آوری کے ذریعہ تحفظ فراہم کیا جائے گا ۔ دوسری طرف ترنمول کانگریس قیادت نے اس کو اہمیت دینے سے انکار کردیا اور کہا کہ این آر سی اور سی اے بی عوام کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوشش ہے اور دونوں کو ختم کرنا چاہئے ۔ ٹی ایم سی کا کہنا ہے کہ ملک کی آزادی کے 70 سال بعد کسی فرد کو اپنی شناخت ثابت کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اپوزیشن کانگریس اور سی پی آئی (ایم) کا خیال ہے کہ بی جے پی اور ٹی ایم سی اس مسئلہ کو اپنے سیاسی مفادات کیلئے استعمال کر رہے ہیں ۔