پولیس کمشنر کی سفارش پر الیکشن کمیشن کی کارروائی
حیدرآباد۔/29 نومبر، ( سیاست نیوز) مرکزی الیکشن کمیشن نے کمشنر پولیس کی سفارش پر سٹی پولیس سے وابستہ 3 پولیس عہدیدار بشمول ڈپٹی کمشنر پولیس سنٹرل زون ایم وینکٹیشورلو کو معطل کردیا۔ تفصیلات کے مطابق 28 نومبر کو مشیرآباد پولیس کی ایک ٹیم نے سنتوش ایلائیٹ اپارٹمنٹ میں نقد رقم کی تقسیم کی اطلاع پر وہاں دھاوا کرتے ہوئے 18 لاکھ روپئے نقد رقم، ایک کار اور دیگر اشیاء برآمد کئے تھے۔ انسپکٹر مشیرآباد پولیس جہانگیر یادو نے اس سلسلہ میں صرف سی آر پی سی کی دفعہ 102 کے تحت نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی درج کیا تھا جبکہ رقم مشیرآباد کے رکن اسمبلی موٹا گوپال کے فرزند موٹا جئے سمہا کی جانب سے تقسیم کی جارہی تھی۔ پولیس کی جانبدارانہ کارروائی کے الزام پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس کمشنر سندیپ شنڈلیہ نے اس معاملہ کی تحقیقات کروائی اور یہ پتہ لگایا کہ انسپکٹر مشیرآباد پولیس اسٹیشن نقد رقم تقسیم کرنے والے افراد کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے کارروائی کرسکتے تھے لیکن ملزمین کی پشت پناہی کرتے ہوئے انہیں اس کیس سے بچانے کیلئے ہر ممکن کوشش کی۔ اس سلسلہ میں پولیس کمشنر نے مرکزی الیکشن کمیشن کو ایک رپورٹ روانہ کی جس میں بتایا کہ ملزمین کو گرفتار کرنے کے بجائے انہیں فرار ہونے میں پولیس مددگار ثابت ہوئی اور پولیس کے اس اقدام سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسپکٹر مشیرآباد پولیس اسٹیشن جہانگیر یادو، اے سی پی چکڑ پلی اے یادگیری اور ڈی سی پی سنٹرل زون ایم وینکٹیشورلو نے ملزمین کو دانستہ طور پر بچانے کیلئے قوانین کے مطابق اپنی ڈیوٹی انجام نہیں دی۔ مرکزی الیکشن کمیشن کو مذکورہ تین عہدیداروں کو معطل کرنے کی سفارش پر کمیشن نے احکام جاری کرتے ہوئے انہیں فوری معطل کرنے کا حکم دیا۔ اسی طرح ڈپٹی کمشنر ٹریفک III ڈی سرینواس کو ڈی سی پی سنٹرل زون کی زائد ذمہ داری دی گئی ہے جبکہ سی سی ایس کے اے سی پی کے مدھو موہن ریڈی کو اے سی پی چکڑ پلی اور مشیرآباد کے ڈیٹکٹیو انسپکٹر ڈی وینکٹ ریڈی کو مشیرآباد پولیس اسٹیشن انسپکٹر مقرر کیا گیا ہے۔