سٹی کالج کی تاریخی عمارت عہدیداروں کے تساہل کے سبب خستہ حالی کا شکار

   

Ferty9 Clinic

چھت اور دیواروں کی مرمت ضروری، گزشتہ چار برسوں سے عمارت کے تحفظ پر توجہ نہیں
حیدرآباد۔18 ۔اگست (سیاست نیوز) حیدرآباد میں آصف جاہی حکمرانوں کی تعمیر کردہ تاریخی عمارتوں کے تحفظ میں حکومت کو کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ آصف سابع نواب میر عثمان علی خاں نے حیدرآباد کو جن عمارتوں کا تحفہ دیا ہے، ان کے تحفظ میں کوتاہی کے سبب عمارتوں کی حالت دن بہ دن مخدوش ہورہی ہے ۔ عثمانیہ ہاسپٹل اور یونانی ہاسپٹل چارمینار کی عمارتوںکی خستہ حالی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، ایسے میں شہر کے ایک تاریخی تعلیمی ادارے سٹی کالج کی خوبصورت عمارت بھی اپنی بدحالی اور عہدیداروں کی لاپرواہی کی کہانی بیان کر رہی ہے۔ سٹی کالج نے اگرچہ تعلیمی سرگرمیاں جاری ہیں اور کالج کے علاوہ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی کے انڈر گریجویٹ کورسس کے لئے اہم اسٹیڈی مرکز کے طور پر اس کی شناخت ہے لیکن عمارت کی زبوں حالی پر کسی کی توجہ نہیں ہے جس کے نتیجہ میں عمارت کے بعض حصے از خود منہدم ہونے کے قریب ہیں۔ تلنگانہ ہائی کورٹ سے متصل اور رود موسیٰ کے کنارہ تعمیر کردہ سٹی کالج کی عمارت کا شمار حیدرآباد کی خوبصورت عمارتوں میں ہوتا ہے لیکن ہیرٹیج کے تحفظ کا دعویٰ کرنے والی حکومت کو کوئی دلچسپی نہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ 2017 ء میں عمارت کے تعمیری کاموں کو منظوری دی گئی تھی لیکن کئی اہم کام ابھی تک نامکمل ہے۔ نواب میر عثمان علی خاں کے دور میں 1921 ء میں کالج قائم کیا گیا تھا۔ عمارت کی تعمیرکو ایک صدی مکمل ہوچکی ہے لیکن آج بھی اس کی خوبصورتی اور استحکام میں کوئی فرق نہیں آیا۔ عمارت کی دیواروں پر خودرو پودے ہیرٹیج ماہرین کے مطابق نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ عمارت کی کئی دیواروں میں دراڑیں پڑ چکی ہیں جن پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پہلے مرحلہ کے مرمتی کام 1.8 کروڑ کے مصارف سے انجام دیئے گئے۔ بعد میں فنڈس کی کمی کے نتیجہ میں مرمتی اور تزئین نو کے کاموں کو روک دیا گیا ۔ چھت سے بارش کا پانی دیواروں میں اتر رہا ہے جس کے نتیجہ میں چھت اور دیواروں کا پلاسٹر جھڑنے لگا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ نواب محبوب علی خاں نے مدرسہ دارالعلوم کے نام سے 1865 ء میں پہلا سٹی اسکول قائم کیا تھا جسے بعد میں سٹی ہائی اسکول میں تبدیل کیا گیا۔ 1921 ء میں اسکول موجودہ عمارت میں منتقل ہوا۔ 1921 ء میں اسکول کو کالج میں اپ گریڈ کیا گیا اور اس کا نام سٹی کالج رکھا گیا ۔ برطانوی آرکیٹکٹ نے ہائی کورٹ ، کاچیگوڑہ ریلوے اسٹیشن اور عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی طرز پر سٹی کالج تعمیر کیا تھا۔ R