سپریم کورٹ سی اے اے کو دستوری قراردے تو ریاستوں کو عمل کرنالازمی ہوگا:کپل سبل

,

   

Ferty9 Clinic

نئی دہلی ۔ /19 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کے سینئر لیڈر کپل سبل نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے اگر شہریت قانون کو دستوری قرار دیا جائے تو ہر ریاست کو اس قانون پر عمل کرنا لازمی ہوجائے گا ۔ قانون کی مخالفت نہیں کی جاسکے گی ۔ انہوں نے کہا کہ میرا ایقان ہے کہ سی اے اے غیردستوری ہے ۔ ہر ریاستی اسمبلی کو قرارداد منظور کرنے کا حق ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اگر سپریم کورٹ سی اے اے کو دستوری قرار دیتا ہے تو مسئلہ پیدا ہوگا ۔ ایسی صورت میں ریاستی حکومتیں قانون کی مخالفت نہیں کرسکتیں ۔ البتہ قانون کے خلاف لڑائی جاری رہے گی ۔ انہوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ سی اے اے کے خلاف کیرالا ، راجستھان ، مدھیہ پردیش ، مغربی بنگال ، مہاراشٹرا کے بشمول کئی غیربی جے پی حکومتوں نے واضح کردیا ہے کہ وہ اس قانون سے اتفاق نہیں کرتے ۔ اگر سی اے اے کو پارلیمنٹ کی جانب سے منظور کیا گیا ہے تو ریاست یہ نہیں کہہ سکتی کہ ہم اس پر عمل نہیں کریں گے چونکہ یہ غیردستوری ہوگا ۔ آپ اس قانون کی مخالفت کرسکتے ہیں ۔ اسمبلی میں قرارداد منظور کرواسکتے ہیں اور مرکز پر زور دے سکتے ہیں کہ وہ قانون کو واپس لیں ۔ لیکن دستوری طور پر کہا جائے کہ میں اس پر عمل نہیں کروں گا تو مسئلہ پیدا ہوگا اور کئی مشکلات سامنے آئیں گی ۔