سپریم کورٹ میں ایس آئی آر عرضیوں پر دوبارہ سماعت شروع

   

نئی دہلی 27جنوری (یو این آئی) سپریم کورٹ نے مختلف ریاستوں میں انتخابی فہرستوں کی ‘خصوصی جامع نظر ثانی’ (ایس آئی آر) کرانے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر منگل کے روز دوبارہ سماعت شروع کی۔ دریں اثناء، الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کو مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے عمل کے دوران انتخابی عہدیداروں کو درپیش بڑے پیمانے پر تشدد اور دھمکیوں کے بارے میں مطلع کیا۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل منیندر سنگھ نے کہا کہ ایس آئی آر ایک قانونی عمل ہے جسے عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 (خاص طور پر سیکشن 21(3)) کے تحت تسلیم شدہ ہے اور یہ انتخابی فہرست کی سالمیت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے ۔ مسٹر منیندر سنگھ نے دلیل دی کہ آئین کے آرٹیکل 325 اور 326 سے واضح ہوتا ہے کہ ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے کے لیے شہریت اور اہلیت کی دیگر شرائط لازمی ہیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ شہریوں اور غیر شہریوں کے درمیان فرق آئینی طور پر اہم ہے اور ایس آئی آر کے خلاف پیدا کیے جانے والے خدشات بے بنیاد ہیں۔الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) سے متعلق مسائل پر جسٹس سنجیو کھنہ اور دیپانکر دتا کی بنچ کے سابقہ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے ، ایڈوکیٹ منیندر سنگھ نے عدالت سے کہا کہ وہ ’’بونافائیڈ‘‘ٹیسٹ کا اطلاق کرے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ درخواستیں آئینی ادارے کو بدنام کرنے کی نیت سے دائر کی گئی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ سپریم کورٹ نے ماضی میں الیکشن سے متعلق معاملات میں آرٹیکل 32 کے تحت دائرہ اختیار کا استعمال کیا ہے ، لیکن اس طرح کی مداخلت غیر ضروری ہے ۔