نئی دہلی، 16 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ میں اجودھیا تنازع کی سماعت عدالتی تاریخ کی دوسری سب سے طویل سماعت ہو گئی ہے۔ اس سے پہلے آدھار کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والی درخواست کی سماعت 38 دن تک جاری رہی تھی، جبکہ 68 دنوں کی سماعت کے ساتھ ہی کیشوآند بھارتی معاملہ پہلے نمبر پر بنا ہوا ہے ۔ 1973 میں کیشوآند بھارتی بمقابلہ کیرالہ ریاست کے معاملے میں سپریم کورٹ کی 13 ججوں کی بنچ نے اپنے آئینی موقف میں ترمیم کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئین میں ترمیم کے حق پر واحد پابندی یہ ہے کہ اس کے ذریعے آئین کے اصل ڈھانچے کو نقصان نہیں پھچنا چاہئے ۔ اپنے تمام تضادات کے باوجود یہ اصول اب بھی قائم ہے اور جلدی میں کئے جانے والے ترامیم روکنے کے طور پر کام کر رہا ہے ۔ کیشوآند بھارتی بمقابلہ کیرالہ ریاست کے معاملے میں 68 دن تک سماعت ہوئی، یہ دلیل وبحث 31 اکتوبر 1972 کو شروع ہوکر 23 مارچ 1973 کو ختم ہوئی تھی۔ آدھار کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر سپریم کورٹ میں اس وقت چیف جسٹس دیپک مشرا کی قیادت والی بنچ نے سماعت کی تھی۔ اس بنچ میں جسٹس اے کے سیکری، جسٹس اے ایم کھانولکر، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس اشوک بھوشن شامل تھے ۔ آدھار معاملے میں 38 دن تک جاری رہی سماعت کے بعد گزشتہ سال 10 مئی کو فیصلہ محفوظ رکھ لیا گیا تھا جبکہ اس پر گزشتہ سال ستمبر میں فیصلہ سنایا گیا تھا۔ اس صورت میں مختلف خدمات میں آدھار کی لازمیت کی آئینی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا گیا تھا۔