سپریم کورٹ میں جمہوریت کی جیت ہوگی:کانگریس

   

نئی دہلی۔ 25 نومبر ۔(سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے کہا ہے کہ مہاراشٹر میں اتحادی حکومت نے تشکیل کے معاملے میں سپریم کورٹ میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی ) اور شیو سینا کے ساتھ پارٹی نے اپنا موقف رکھ دیا ہے اور اسے اُمید ہے کہ عدالت میں جمہوریت کی جیت ہوگی۔کانگریس کے سینئر لیڈر اور مہاراشٹر کے سابق وزیراعلیٰ پرتھوی راج چوہان،جنرل سکریٹری مکل واسنک اور محکمہ مواصلات کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے پیر کو یہاں پارلیمنٹ احاطے میں مشترکہ طورپر پریس کانفرنس میں کہا کہ تینوں پارٹیوں میں ریاستی حکومت بنانے کے لئے اتفاق ہے اور حکومت کی تشکیل کیلئے اکثریت سے زیادہ 154 اراکان اسمبلی کے دستخط والے حلف نامے بھی ہیں جنہیں عدالت کے سامنے پیش کیاگیاہے ۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ اتحاد کے پاس اکثریت کی مناسب اعدادو شمار ہے ۔ریاستی اسمبلی میں اکثریت کیلئے 145 ارکان اسمبلی کی ضرورت ہے لیکن اتحاد کے پاس 154 ہیں۔انہوں نے کہا کہ عدالت نے دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد منگل کی صبح تک اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے اور ان کے اتحاد کو یقین ہے کہ عدالت میں مہاراشٹر میں جمہوریت غالب ہوگی۔ انہیں امید ہے کہ عدالت وزیراعلی دیویندر فڑنویس اور نائب وزیر اعلی اجیت پوار کو ایوان میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کا حکم دے گی اور جلد ہی حکومت سے باہر ہوجائیں گے ۔کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ تینوں پارٹیاں شیوسینا لیڈر ادھو ٹھاکرے کی قیادت میں مہاراشٹر میں مشترکہ حکومت تشکیل دینا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل جس طرح عدالت نے اتراکھنڈ اور کرناٹک میں 24 گھنٹوں کے اندر ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کا فیصلہ کیاتھا ،اسی طرح کا فیصلہ مہاراشٹر کے سلسلے میں بھی آئے گا اور وہاں بھی جمہوریت کی جیت ہوگی۔