محمد علی شبیر کا مکتوب، سالیسٹر جنرل کو تحفظات کی مخالفت سے روکنے کی ضرورت
حیدرآباد۔/6 ستمبر، ( سیاست نیوز) سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے چیف منسٹرس سے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ میں 4 فیصد مسلم تحفظات کی برقراری کیلئے بھرپور انداز میں قانونی جدوجہد کریں۔ محمد علی شبیر نے چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ اور چیف منسٹر آندھرا پردیش وائی ایس جگن موہن ریڈی کو علحدہ علحدہ مکتوب روانہ کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے 13 اور 14 ستمبر کو 4 فیصد مسلم تحفظات پر سماعت کا فیصلہ کیا ہے۔ سیکولر اور اقلیتوں سے ہمدردی کا دعویٰ کرنے والے دونوں چیف منسٹرس کیلئے یہ امتحان کا وقت ہے کہ وہ مسلم تحفظات کو بچانے کیلئے اپنی دلچسپی دکھاتے ہوئے موثر پیروی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ تبدیل شدہ سیاسی حالات میں مسلم تحفظات کی برقراری کو خطرہ لاحق ہوچکا ہے کیونکہ مرکز میں برسراقتدار بی جے پی تحفظات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2004-5 میں متحدہ آندھرا پردیش کی کانگریس حکومت نے تحفظات فراہم کئے تھے اور ریاست کی تقسیم کے باوجود تحفظات کے مسئلہ پر دونوں حکومتوں میں کوئی تنازعہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں مرکز کے نمائندہ سالیسٹر جنرل تشار مہتا کو تحفظات کے حق میں دلائل پیش کرنے کیلئے دونوں چیف منسٹرس کو مساعی کرنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ریاستوں کی حکومتیں مسلم تحفظات کی برقراری کے حق میں ہیں جبکہ بی جے پی نے کھل کر مخالفت کی ہے۔ سپریم کورٹ میں مرکزی حکومت کو تحفظات کی مخالفت سے روکنا دونوں چیف منسٹرس کی ذمہ داری ہے۔ 25 مارچ 2010 کو سپریم کورٹ نے بی سی ای زمرہ کے تحت 4 فیصد تحفظات کی فراہمی کی اجازت دی ہے۔ اسوقت کے سالیسٹر جنرل جی ایم واہن وتی نے تحفظات کے حق میں دلائل پیش کئے تھے۔ موجودہ حالات میں مرکزی حکومت کا موقف تاحال غیر واضح ہے۔ دونوں چیف منسٹرس کو چاہیئے کہ وہ مرکز پر دباؤ بناتے ہوئے مسلم تحفظات کی مخالفت سے باز رکھیں۔ اس معاملہ میں وزیر اعظم نریندر مودی سے مداخلت کی خواہش کی جائے تاکہ سالیسٹر جنرل اور ان کی ٹیم تحفظات کی مخالفت نہ کرے۔ پانچ رکنی دستوری بنچ چیف جسٹس یو یو للت، جسٹس دنیش مہیشوری، جسٹس ایس رویندر بھٹ، جسٹس ایم ترویدی اور جسٹس پارڈی والا پر مشتمل ہے۔ یہ بنچ یو پی اے حکومت کی جانب سے فراہم کردہ 10 فیصد معاشی پسماندہ طبقات کے تحفظات کا بھی جائزہ لے گا۔ محمد علی شبیر نے کہاکہ اگر دونوں چیف منسٹرس نے اپنی سنجیدگی اور دلچسپی نہیں دکھائی تو مسلم تحفظات سے محرومی کا اندیشہ ہے اور مسلم اقلیتوں کو ٹی آر ایس اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی پر سے اعتماد اٹھ جائے گا۔ر