دونوں ریاستیں موثر پیروی کریں، وکلاء سے مشاورت کیلئے محمد علی شبیر کا مجوزہ دورہ دہلی
حیدرآباد۔/31 اگسٹ، ( سیاست نیوز) سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے کہا کہ مسلم تحفظات کے مسئلہ پر سپریم کورٹ میں کے سی آر کی سنجیدگی کا امتحان ہے۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کی جانب سے معاشی طور پر پسماندہ افراد کیلئے 10 فیصد تحفظات اور متحدہ آندھرا پردیش میں وائی ایس راج شیکھر ریڈی حکومت کی جانب سے فراہم کئے گئے 4 فیصد مسلم تحفظات کے مقدمات کی 13 ستمبر سے سماعت کا فیصلہ کیا ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کے سی آر نے مسلمانوں سے 10 فیصد تحفظات کی فراہمی کا وعدہ کیا تھا لیکن مرکز کو قرارداد روانہ کرتے ہوئے خاموشی اختیار کرلی گئی۔ اب جبکہ سپریم کورٹ میں 4 فیصد موجودہ مسلم تحفظات کو بچانے کیلئے حکومت کی جانب سے موثر پیروی کی ضرورت ہے چیف منسٹر کو چاہیئے کہ وہ نامور وکلاء کی خدمات حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر تلنگانہ اور آندھرا پردیش کی حکومتیں مسلمانوں سے ہمدردی کے معاملہ میں نیک نیتی رکھتی ہوں تو انہیں موثر پیروی کے ذریعہ موجودہ تحفظات کا دفاع کرنا ہوگا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ وہ خود بھی اس مقدمہ میں فریق ہیں اور سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید ان کے وکیل ہیں۔ وائی ایس راج شیکھر ریڈی حکومت نے 4 فیصد تحفظات فراہم کئے تھے اس وقت محمد علی شبیر نے وزیر اقلیتی بہبود کی حیثیت سے اہم رول ادا کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت کی جانب سے فراہم کردہ تحفظات کے نتیجہ میں دونوں ریاستوں کے لاکھوں مسلم نوجوانوں کو فائدہ ہوا۔ میڈیسن، انجینئرنگ اور دیگر پروفیشنل کورسیس کے علاوہ ملازمتوں میں بی سی ای زمرہ کے تحت روزگار حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب جبکہ مقدمہ کی دستوری بنچ پر سماعت شروع ہورہی ہے کے سی آر اور جگن حکومتوں کو اپنی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ محمد علی شبیر نے سپریم کورٹ کے مختلف وکلاء سے مشاورت کیلئے دورہ دہلی کا منصوبہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مقدمہ کے دیگر مسلم فریقین سے بھی ملاقات کریں گے۔ ر