سپریم کورٹ میں کشمیری عوام کی کامیابی یقینی

   

دفعہ 370 کی تنسیخ پر عبدالرحیم راتھر سابق وزیر و نیشنل کانفرنس قائد سے بات چیت

سری نگر۔3 ۔ستمبر۔ (سیاست نیوز) سپریم کورٹ میں جاری دفعہ 370 کی تنسیخ کا مقدمہ واضح ہے اور اس میں کشمیری عوام کی کامیابی یقینی ہے لیکن اگر اس کے باوجود بھی کشمیری عوام کے حقوق کا تحفظ نہیں ہوتا ہے تو حالات کیا ہوں گے کوئی کہہ نہیں سکتا ۔ حکومت ہند نے جس انداز میں کشمیری عوام کو ان کے حقوق سے محروم کیا ہے وہ دراصل ان کے خلاف کی گئی سازش کا نتیجہ ہے لیکن کشمیری عوام اپنے حقوق کو حاصل کرنا جانتے ہیں۔ جناب عبدالرحیم راتھر سابق وزیر فینانس و سینیئر قائد نیشنل کانفرنس نے نمائندہ سیاست سے کی گئی خصوصی بات چیت کے دوران یہ بات کہی اور بتایا کہ کشمیری عوام کے ساتھ ناانصافیوں کی داستاں کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن جب کبھی ان کے ساتھ ناانصافی کی گئی انہوں نے سربکف جدوجہد کرتے ہوئے اپنے حقوق حاصل کئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کشمیر سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں اور عوام کی اولین ترجیح کشمیر کو ریاست کا موقف بحال کرنا اور جمہوری حکومت کا قیام یقینی بنانا ہے لیکن حکومت کشمیر میں انتخابات سے خوفزدہ ہے اور یہ باور کروانے کی کوشش کر رہی ہے کہ کشمیر میں پرامن انتخابات کا انعقاد مشکل ہے لیکن اگر ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کونسل کے انتخابات کا مشاہدہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ کشمیر میں انتخابات کا انعقاد مشکل نہیں ہے لیکن حکومت ہند جان بوجھ کر انتخابات کو ٹال رہی ہے اور انہیں کشمیر میں جمہوریت کی بحالی سے دلچسپی نہیں ہے۔ جناب عبدالرحیم راتھر نے بتایا کہ 370 کی تنسیخ کے بعد ڈی ڈی سی کے پر امن انتخابات کے بعد یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ کشمیری عوام امن پسند اور جمہوریت پسند ہیں لیکن اس کے باوجود حکومت کی جانب سے ریاستی اسمبلی کے انتخابات کا عدم انعقاد ناقابل فہم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جن لوگوں نے ڈی ڈی سی انتخابات میں رائے دہی میں حصہ لیا ہے ان لوگوں کو ہی ریاستی اسمبلی اور قومی پارلیمانی انتخابات میں رائے دہی کرنی ہوتی ہے تو ایسا کیسے ممکن ہے کہ ڈی ڈی سی انتخابات کا پر امن انعقاد ہوسکتا ہے اور اسمبلی کے انتخابات کا پر امن انعقاد ممکن نہیں ہوگا! انہوں نے کہا کہ حکومت نے ابتداء میں حلقہ جات اسمبلی کی از سر نو حد بندی کے نام پر انتخابات کو ٹالنے کی کوشش کی لیکن اب حلقہ جات اسمبلی کی از سر نو حد بندی کا عمل بھی مکمل ہوچکا ہے اور اب بھی انتخابات کو ٹالنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اگر دفعہ 370 بحال نہیں ہوتی ہے تو ایسی صورت میں کشمیری عوام اپنے سیاسی رہنمائوں کے ساتھ متحدہ طور پر حکمت عملی تیار کریں گے ۔ انہوں نے کشمیر کو مکمل ریاست قرار دینے اور جمہوری حکومت کے قیام کی جدوجہد کو عوام کا حق قرار دیتے ہوئے کہا کہ بنیادی حقوق سے محروم کرنے کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں اسی لئے نیشنل کانفرنس جمہوریت کے دائرہ میں رہتے ہوئے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔ سابق وزیر فینانس نے کہا کہ
ملک کی دیگر ریاست میں جس طرح عوام اپنی مرضی کے مطابق زندگی گذارنے کا حق رکھتے ہیں اسی طرح کشمیر کے عوام کو بھی اپنی مرضی کے مطابق زندگی گذارنے کا حق حاصل ہونا چاہئے ۔ انہوں نے بتایا کہ کشمیری عوام میں اعتماد پیدا کرنے کے لئے جمہوریت کی بحالی ناگزیر ہے اور اگر مرکزی حکومت یہ تصور کرتی ہے کہ طاقت اور لیفٹننٹ گورنر کے ذریعہ عوام پر حکمرانی کی جاسکتی ہے تو یہ حکومت کی خام خیالی ہے۔ عبدالرحیم راتھر نے بتایا کہ ریاست کشمیر کے عوام کے دلوں کو جیتنے کے لئے انہیں مواقع فراہم کرنے کے علاوہ وادی کے اضلاع کی ترقی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔