بمبئی ہائیکورٹ کے قطعی احکامات تک ریلیز معطل، فلم کا ٹریلر اشتعال انگیز، جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کا ریمارک
حیدرآباد 13 جون (سیاست نیوز) سپریم کورٹ نے متنازعہ فلم ’ہمارے بارہ‘ کی ریلیز پر روک لگادی ہے۔ بمبئی ہائیکورٹ نے فلم کی ریلیز سے متعلق زیرالتواء مقدمہ کی یکسوئی تک سپریم کورٹ کے احکامات برقرار رہیں گے۔ متنازعہ فلم ’ہمارے بارہ‘ 14 جون کو ریلیز ہونے والی ہے، تاہم اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں فلم میں اشتعال انگیز ڈائیلاگس اور قرآن مجید کی غلط تشریح کے خلاف مسلمان احتجاج کررہے ہیں۔ سپریم کورٹ کے جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل وکیشن بنچ نے بمبئی ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے دائر کی گئی درخواست پر یہ فیصلہ سنایا۔ سپریم کورٹ نے اپنے احکامات میں کہاکہ ہائیکورٹ کی جانب سے اِس معاملہ کی قطعی یکسوئی تک فلم کی ریلیز معطل رہے گی۔ سماعت کے دوران ججس نے کہاکہ اُنھوں نے فلم کا ٹیزر آج ہی دیکھا ہے جوکہ انتہائی اشتعال انگیز ہے۔ جسٹس مہتا نے کہاکہ آج صبح ہم نے فلم کا ٹیزر دیکھا، جس میں وہ تمام قابل اعتراض مواد موجود ہے جس پر اعتراض کیا گیا ہے۔ یہ ٹیزر یو ٹیوب پر دستیاب ہے۔ جسٹس وکرم ناتھ نے کہاکہ فلم کا ٹیزر کافی اشتعال انگیز ہے جس کے سبب ہائیکورٹ نے عبوری احکامات جاری کئے ہیں۔ اُنھوں نے فلم کی ریلیز سے متعلق بمبئی ہائیکورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا۔ واضح رہے کہ اظہر باشاہ تمبولی نے بمبئی ہائیکورٹ میں فلم کو سنٹر بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن کی جانب سے جاری کردہ سرٹیفکیٹ پر اعتراض کرتے ہوئے سرٹیفکیٹ سے دستبرداری کی درخواست کی۔ درخواست گذار کا الزام تھا کہ فلم جو پہلے 7 جون کو ریلیز ہونے والی تھی، اُس میں مذہب اسلام اور شادی شدہ مسلم خواتین کے بارے میں اہانت آمیز ریمارکس کئے گئے ہیں۔ درخواست گذار نے کہاکہ فلم کے ٹریلر میں دکھایا گیا ہے کہ مسلم خواتین کو کوئی آزادی اور اختیار نہیں ہے اور قرآن کی ایک آیت کی غلط ترجمانی کی گئی۔ سنٹر بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن نے عدالت کو بتایا کہ ضروری قواعد کی تکمیل کے بعد ہی فلم کو سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا۔ بورڈ نے دعویٰ کیاکہ قابل اعتراض سین اور مکالمے ٹریلر اور فلم دونوں سے حذف کردیئے گئے ہیں۔ بمبئی ہائیکورٹ نے ابتداء میں درخواست گذاروں کے موقف سے اتفاق کرتے ہوئے 14 جون تک فلم کی ریلیز پر پابندی عائد کردی۔ عدالت نے 3 رکنی ریویو کمیٹی تشکیل دی جو فلم کا مشاہدہ کرتے ہوئے ریمارکس داخل کرے گی۔ ریویو کمیٹی نے جب رپورٹ پیش کرنے کے بجائے عدالت سے مزید وقت طلب کیا تب بمبئی ہائیکورٹ نے فلم کی ریلیز کی اجازت دے دی۔ فلم ساز اور ڈائرکٹر نے عدالت کو بتایا کہ فلم سے قابل اعتراض حصے حذف کردیئے گئے۔ ہائیکورٹ کی جانب سے فلم کی ریلیز کی اجازت اور ریویو کمیٹی کی تشکیل کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی۔ سپریم کورٹ میں آج سماعت کے دوران درخواست گذار کے وکیل فوزیہ شکیل نے کہاکہ ہائیکورٹ کی جانب سے سنسر بورڈ کو کمیٹی کی تشکیل کی خواہش کرنا مناسب نہیں ہے۔ جسٹس مہتا نے درخواست گذار کے وکیل کے موقف سے اتفاق کیا۔ مدعی علیہان کے وکیل منیش سریواستو نے عدالت کو بتایا کہ فلم سازوں کو فلم کی ریلیز کا حق حاصل ہے کیوں کہ بورڈ نے سرٹیفکیٹ جاری کردیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ درخواست گذار کی شکایت ٹیزر کی بنیاد پر ہے جبکہ اِسے عوامی پلیٹ فارم سے نکال دیا گیا۔ فریقین کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کو اختیار دیا کہ وہ اِس معاملہ کی میرٹ کی بنیاد پر یکسوئی کرے اور اُس وقت فلم کی نمائش معطل رکھی جائے۔ ہائیکورٹ نے درخواست گذار کو اجازت دی کہ وہ کمیٹی کی تشکیل کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع ہو۔ فریقین نے درخواست کی یکسوئی پر اتفاق کیا اور التواء کی خواہش نہیں کی۔ سریواستو نے جب سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ بمبئی ہائیکورٹ کو اندرون ایک ہفتہ اِس معاملہ کی یکسوئی کی ہدایت دی جائے، جس پر ڈیویژن نے کہاکہ وہ اِس سلسلہ میں کوئی ہدایت نہیں دے سکتے۔ ہم صرف درخواست کرسکتے ہیں۔ جسٹس مہتا نے کہاکہ اِس معاملہ میں ہم ہدایت دینے کی اتھاریٹی نہیں رکھتے۔ 1