سپریم کورٹ نے کانوں پر عائد تنازعہ پر فیصلہ محفوظ کرلیا

   

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے 1989 سے ریاستوں کو کانوں اور معدنیات سے مالا مال زمین پر عائد رائلٹی واپس کرنے کے سوال پر چہارشنبہ کو اپنا حکم محفوظ کر لیا۔چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس ہریشی کیش رائے ، جسٹس ابھے ایس اوکا، جسٹس جے بی پارڈی والا، جسٹس منوج مشرا، جسٹس بی وی ناگرتھنا، جسٹس اجل بھوئیاں، جسٹس ستیش چندر شرما اور جسٹس آگسٹین جارج مسیح کی بنچ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔مرکزی حکومت نے معدنیات سے مالا مال ریاستوں کی اس عرضی کی مخالفت کی تھی جس میں رائلٹی کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ حکومت نے استدلال کیا کہ کوئی بھی حکم جس سے مبینہ واجبات کو سابقہ اثر کے ساتھ ادا کرنے کا کہا جائے گا اس کا “ملٹی پولر” اثر پڑے گا۔مرکز کی طرف سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بھی نو ججوں کی بنچ کے سامنے دلیل دی کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت مدھیہ پردیش اور راجستھان چاہتی ہے کہ 25 جولائی کے فیصلے کو مستقبل میں لاگو کیا جائے ۔