نئی دہلی، 6 فروری (یو این آئی) سپریم کورٹ نے جمعہ کو پرشانت کشور کی قیادت والی جن سوراج پارٹی کی طرف سے بہار اسمبلی انتخابات 2025 کو چیلنج کرنے والی ایک رٹ درخواست پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا، جس میں انہوں نے ریاست میں از سرنو انتخابات کرانے کی ہدایت مانگ کی تھی۔ جب بنچ نے اس معاملے کی سماعت سے ہچکچاہٹ کا اظہار کیا تو درخواست گزار نے درخواست واپس لینے اور ہائی کورٹ میں اپیل کرنے کی آزادی مانگی۔ انہیں یہ آزادی دیتے ہوئے چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باغچی پر مشتمل بنچ نے درخواست کو واپس لینے کے طور پر خارج کردیا۔ یہ رٹ پٹیشن آئین کے آرٹیکل 32 کے تحت دائر کی گئی تھی جس میں دیگر باتوں کے علاوہ ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ کے نافذ رہنے کے دوران مکھیہ منتری مہیلا روزگار یوجنا کے تحت مستفیدین کی تعداد بڑھا نے اور خواتین ووٹرز کو 10,000 روپے کی براہ راست نقد رقم کی منتقلی کو چیلنج کیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ کا آئی اے ایم سی کو مفت اراضی الاٹمنٹ پر روک لگانے کا فیصلہ برقرار
نئی دہلی، 6 فروری (یو این آئی) سپریم کورٹ نے جمعرات کے روز تلنگانہ ہائی کورٹ کے حیدرآباد میں واقع انٹرنیشنل آربٹریشن اینڈ میڈیئشن سینٹر کو قیمتی سرکاری زمین کی مفت الاٹمنٹ کو منسوخ کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس ایس وی این بھاٹی پر مشتمل بنچ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی آئی اے ایم سی کی درخواستوں کو خارج کر دیا۔ عدالت نے واضح طور پر کہا کہ وہ اس معاملے میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی ہے ۔ اس سے قبل جسٹس ستیش چندر شرما نے کیس کی سماعت سے خود کو الگ کر لیا تھا۔ جون 2025 کے ایک فیصلے میں، تلنگانہ ہائی کورٹ نے حیدرآباد کے رائدرگ گاؤں میں قیمتی اراضی آئی اے ایم سی کو مفت میں الاٹ کرنے کے ریاستی حکومت کے اقدام پر روک لگا دی تھی۔ سنٹر کا افتتاح 2021 میں اس وقت کے چیف جسٹس این وی رمنا کے دور میں ہوا تھا۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ حکومت عوام کی امانت ہے اور بغیر کسی مجبوری کے یا وسیع تر عوامی مفاد میں سرکاری زمین مفت میں نہیں دے سکتی ہے۔
درخواست میں الزام لگایا گیا کہ اس طرح کے منتقلی بدعنوانی کے مترادف ہے اور انتخابات کی شفافیت کو متاثر کرتی ہے ۔ شروع میں جسٹس باغچی نے پوچھا کہ عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کی دفعہ 100 کی کس شق کے تحت پورے اسمبلی انتخابات کو منسوخ کیا جا سکتا ہے ۔ سینئر وکیل چندر ادے سنگھ نے عرضی گزار کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ پہلے سے ہی دیگر زیر التوا مقدمات میں “مفت مدد” کے معاملے کی جانچ کر رہی ہے اور دلیل دی کہ بجٹ حمایت کے بغیر مالی طور پر پریشان ریاست میں بڑے پیمانے پر نقد رقم کی منتقلی آزاد اور منصفانہ انتخابات میں رکاوٹ ہوتی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ رٹ پٹیشن ایک جامع الیکشن پٹیشن ہے جس میں پورے الیکشن کو کالعدم قرار دینے کے لیے ایک جامع حکم کی مانگ کی گئی ہے۔
عدالت نے کہا کہ بدعنوانی کے الزامات کا تعلق انفرادی امیدواروں اور حلقوں سے ہونا چاہیے اور مناسب علاج عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت انتخابی درخواستیں دائر کرنا ہے ۔