نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے ایک جج کی طرف سے سپریم کورٹ کے خلاف کیے گئے تبصروں کو مکمل طور پر نامناسب، قابل مذمتاور توہین عدالت کے استعمال کے مساوی مانتے ہوئے آج انہیں ہٹانے کا حکم دیا.چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ، جسٹس سنجیو کھنہ، جسٹس بی آر گاوائی، جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس ریشی کیش رائے کی بنچ نے (سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس) معاملے کی سماعت کے بعد کہاکہ وہ اپنے آئینی فرض کے مطابق اس معاملے میں مداخلت کرنے کی پابند ہے ، کیونکہ تبصرے اس کے اختیار کو کمزور کرتے ہیں۔عدالت عظمیٰ نے ان تبصروں کو تشویشناک قرار دیا اور کہا کہ ان سے عدالتی عمل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے اور اسے امید ہیکہ مستقبل میں کچھ احتیاط برتی جائے گی۔بنچ نے کہا، ہمیں امید ہیکہ عدالت کو مستقبل میں اسی جج یا اس ملک میں کسی دوسرے جج کے سلسلے میں اسی طرح کے کیس میں مداخلت نہیں کرنی پڑے گی۔