اسپیشل ٹیچرس کے تقررات
سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کیلئے ریاستی محکمہ کو ہنوز ایکشن پلان تیار شدنی
حیدرآباد ۔ 26 نومبر (سیاست نیوز) اسٹیٹ ڈسیبلڈ اینڈ سینئر سٹیزنس ویلفیر ڈپارٹمنٹ (TSDSCWD) اور اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ (SSED) کو اسپیشل ٹیچرس کے تقررات پر سپریم کورٹ کی ہدایت پر عملدرآمد کرنے کیلئے ایک ایکشن پلان تیار کرنا ہے۔ تاہم ان محکمہ جات کو ہنوز اس مسئلہ پر حکومت کا فیصلہ سننا باقی ہے۔ قبل ازیں سپریم کورٹ نے قانون حقوق معذورین 2016ء کے سیکشن 79 اور 81 کے تحت معذور اشخاص کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرنے والے اسٹیٹ کمشنرس کو اسپیشل ٹیچرس کے تقررات کرنے کیلئے ذمہ دار بنایا تھا۔ عدالت نے ان سے کہا تھا کہ وہ ازخود عدالت کی ہدایات کی تعمیل سے متعلق تحقیقات کرکے اس عدالت میں فبروری 2022ء تک رپورٹ داخل کریں۔ تاہم سپریم کورٹ کی ہدایت پر عمل کرنے سے متعلق کام بالخصوص مذکورہ دو محکمہ جات کا ہے اور دیگر محکمہ جات جیسے فینانس کا بھی۔ اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ ’’ڈسیبلڈ اینڈ سینئر سٹیزنس کے اسٹیٹ کمشنر کو عدالت میں ہدایت پر عمل سے متعلق رپورٹ داخل کرنا ہے جبکہ ساتھ ہی اس رپورٹ کی تیاری کیلئے مختلف محکمہ جات میں تال میل کی ضرورت ہے‘‘ کیونکہ سپریم کورٹ کی ہدایت میں نہ صرف معذور بچوں کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے کوالیفائیڈ ریہیبلیٹیشن پروفیشنلس اور اسپیشل ٹیچرس کے ذریعہ مناسب تناسب میں مستقل عہدوں پر تقررات کرنے کی بات کی ہے بلکہ اس نے ریسورس پرسنس کی کمی کو دور کرنے کیلئے رہبلیٹیشن پروفیشنلس ؍ اسپیشل ایجوکیٹرس میں اضافہ کرنے کیلئے ٹیچرس ٹریننگ اسکولس اینڈ انسٹیٹیوٹس کی جانب سے اقدامات کرنے کی بھی ہدایت دی۔ اسپیشل ٹرینڈ ٹیچرس کی خاطرخواہ تعداد دستیاب ہونے تک سمگرا سیکھا ابھیان اسکیم کے مطابق اٹیندنٹ ٹیچرس کی اس ہدایت میں اجازت دی گئی۔ اس کے علاوہ عام اسکولس میں برسرکار ٹیچرس اور اسٹاف کو جب اس طرح کے طلبہ جنرل اسکولس میں داخلہ حاصل کریں تو ان سے نمٹنے کیلئے لازمی ٹریننگ دی جاسکتی ہے۔