قانونی لڑائی لڑنے والا جوڑا دوبارہ ساتھ زندگی گذانے پر آمادہ
حیدرآباد 29 جولائی (یواین آئی) سپریم کورٹ نے ایک جوڑے کو ملادیا جو گذشتہ تقریبا 20برسوں سے قانونی لڑائی لڑرہا تھا۔چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا جن کا تعلق تلگو ریاست آندھراپردیش سے ہے نے جنوبی ہند کی اسی ریاست سے تعلق رکھنے والے جوڑے کی قانونی لڑائی کو ختم کرتے ہوئے ان کو ملادینے میں اہم رول اداکیا۔خاتون نے جہیز ہراسانی معاملہ میں اس کے شوہر کو جیل کی سزادینے کی خواہش کی تھی۔جب یہ معاملہ سماعت کے لئے آیا تو چیف جسٹس رمنا نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ بات کرنے کی اس جوڑے سے خواہش کی۔چونکہ خاتون عدالت کی سرکاری زبان انگریزی میں بہتر طورپر بات نہیں کرپارہی تھی تورمنا نے اس خاتون سے تلگو میں بات کی اور اس کے بیان کو اپنے ساتھی جج کو ترجمہ کرتے ہوئے سنایا۔چیف جسٹس نے اس خاتون سے کہا اگر آپ کا شوہر جیل جاتا ہے تو ایسی صورت میں آپ ماہانہ گذاراکی رقم سے بھی محروم ہوجائیں گی کیونکہ جیل جانے پر آپ کا شوہر ملازمت سے محروم ہوجائے گا۔بنچ کے دوسرے جج جسٹس سوریہ کانت تھے ۔اس خاتون کا شوہرجو اے پی کے ضلع گنٹورمیں سرکاری ملازم ہے کے خلاف اس کی بیوی نے جہیز ہراسانی کے الزامات لگائے تھے ۔خاتون نے چیف جسٹس کی بات کو تحمل سے سنا اورشوہر کے ساتھ زندگی گذارنے کے لئے راضی ہوگئی۔بعد ازاں دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف داخل کردہ عرضیوں سے دستبرداری کا فیصلہ کیا۔ان دونوں کی شادی 1998میں ہوئی تھی تاہم خاتون کی جانب سے سال 2001میں شوہر کے خلاف فوجداری کا معاملہ درج کروایاگیا تھا۔نچلی عدالت نے شوہر کو ایک سال کی سزا سنائی تھی تاہم اس کی بیوی چاہتی تھی کہ سزا میں اضافہ کیاجائے اور وہ سیشن کورٹ، ہائی کورٹ اور پھر ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ بھی رجوع ہوئی تھی۔اس طرح چیف جسٹس آف انڈیا کی کامیاب مصالحت نے اس جوڑے کو تقریبا 20سال بعد دوبارہ ملادیا۔