سپریم کورٹ ہدایات کے مطابق ’ انسداد ماب لنچنگ قانون ‘ بنایا جائے

   

دفتر وزیر اعظم کو شہر کے ایک وکیل کا مکتوب ۔ تمام ریاستیں بھی قانون بنانے کی پابند ۔ جھارکھنڈاسمبلی میں بل پیش
حیدرآباد۔ 23 جنوری ( سیاست نیوز ) ہندوستان میں مسلمانوں کی امکانی نسل کشی کے بین الاقوامی اندیشوں اور مسلمانوں کے خلاف نسل کشی کے باضابطہ اعلانات کے دوران شہر کے ایک وکیل نے دفتر وزیر اعظم ‘ انڈین یونین اور تلنگانہ حکومت کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے 2018 میں جاری کئے گئے احکام کے مطابق ایک خصوصی قانون تیار کیا جائے تاکہ ہجومی تشدد کو روکا جاسکے ۔ پانچ صفحات پر مشتمل اپنے مکتوب میں وکیل خواجہ اعجاز الدین نے کہا کہ ہجومی تشدد اور قتل کے کئی واقعات ملک بھر میں گدشتہ چند برسوں میں پیش آ:ے ہیں۔ ان کو دیکھتے ہوئے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی ۔ عدالت نے واقعات کا نوٹ لیتے ہوئے تحسین ایس پونا والا بنام یونین آف انڈیا کیس میں فیصلہ سنایا اور ہدایات جاری کی ہیں۔ ان میں احتیاط ‘ تدارک اور سزا وغیرہ کا خیال رکھا ہے ۔ اس فیصلے پر عمل کرنے انڈین یونین و ریاستی حکومتیں پابند ہیں۔ یہ فیصلہ 17 جولائی 2018 کو جاری کیا گیا تھا اور مرکزی و ریاستی حکومتوں پر یہ ذمہ داری تھی کہ فیصلے کی تاریخ کے چار ہفتوں میں ضروری اقدامات کئے جاتے ۔ وکیل موصوف نے اپنے مکتوب میں کہا کہ ہندوستان میں پیش آنے والے ہجومی تشدد کے واقعات کے تناظر میں انڈین یونین اور ریاستوں کی یہ دستوری ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کی جان کی حفاظت کرے اور ایک فوجداری قانون تیار کرے ۔ سپریم کورٹ نے اس مسئلہ کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں اس لعنت کو ختم کرنے کیلئے ہدایات جاری کی ہیں۔ سپریم کورٹ نے واضح انداز میں پارلیمنٹ سے سفارش کی ہے کہ ماب لنچنگ کیلئے ایک علیحدہ قانون بنایا جائے اور سزا تجویز کی جائے ۔ عدالت نے مزید کہا کہ اس سلسلہ میں ایک خصوصی قانون ایسا تیار کیا جانا چاہئے جس سے ایسی سرگرمیوں میں ملوث رہنے والوں میں قانون کا خوف پیدا ہو۔ عدالت کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ریاستی حکومتیں ایک سینئر پولیس عہدیدار کو جو سپرنٹنڈنٹ پولیس سے کم رینک کا نہ ہو نوڈل آفیسر ہر ضلع میں مقرر کیا جائے ۔ ریاستی حکومت کو اس فیصلے میں مزید ہدایات بھی دی گئی تھیں۔ خواجہ اعجاز الدین نے کہا کہ بین الاقوامی حقوق انسانی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اقلیتوں کے خلاف جو نفرت پھیلائی جا رہی ہے اس کے پیش نظر ہندوستان میں نسل کشی زیادہ دور نہیں ہے اور ریاستوں کو اس کا نوٹ لیتے ہوئے ایک قانون تیار کرنا چاہئے جس کی سپریم کورٹ نے ہدایت دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست تلنگانہ کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی ہدایات پر عمل کرے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو اس کے قانونی عواقب ہونگے اور تلنگانہ کو اس کے نتائج کا سامنا کرنا پڑیگا ۔ حکومت تلنگانہ کو اسمبلی سشن میں ایسا قانون تیار کرنا چاہئے جیسا جھارکھنڈ میں کیا گیا ہے ۔ وہاں انسداد ماب لنچنگ بل اسمبلی میں پیش کیا جاچکا ہے ۔