ٹریفک پولیس کا طلباء کی حفاظت پر اعلی سطح کا مشترکہ اجلاس۔ کمشنر پولیس و دیگر عہدیداروں کا خطاب
حیدرآباد 19 جون (سیاست نیوز) حیدرآباد ٹریفک پولیس نے اسکولی طلبہ کی سڑک سے گزرنے کے دوران حفاظت کے موضوع پر رویندرا بھارتی حیدرآباد میں ایک اعلیٰ سطحی مشترکہ اسٹیک ہولڈر کا ایک اجلاس منعقد کیا۔ سٹی پولیس کمشنر وی سی سجنار نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی ۔ اِس موقع پر کمشنر پولیس وی سی سجنار نے کہا کہ شہر میں کم عمر بچوں کی ڈرائیونگ کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور اسکول انتظامیہ سے یہ خواہش کی کہ اگر کوئی نابالغ طالب علم گاڑی لے کر آتا ہے تو اُسے ڈرائیونگ کیلئے ڈی میرٹ کا موقف اختیار کرے۔ اُنھوں نے کہاکہ 3500 تا 3800 اسکول ہیں جن میں 12 لاکھ سے زائد طلبہ تعلیم حاصل کرتے ہیں اور بچوں کی حفاظت تمام اسٹیک ہولڈرس کا مشترکہ فرض ہے۔ ہر اسکول 5 تا 10 منٹ روزانہ حفاظتی اقدامات پر شعور بیدار کیا جائے ۔ اجلاس میں اسکولوں، پولیس، جی ایچ ایم سی، ٹرانسپورٹ و دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور سخت نفاذ کے اقدامات پر زور دیا گیا تاکہ جاریہ تعلیمی سال میں بچوں کی سڑکوں پر حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے ۔ میڈیا سے بھی خواہش کی گئی کہ وہ بچوں کی حفاظت کے حوالے سے شعور اُجاگر کریں اور ٹریفک خلاف ورزیوں کی نشاندہی کریں تاکہ سماجی سطح پر روڈ سیفٹی کا ماحول بہتر بنایا ۔ اجلاس میں محکمہ ٹرانسپورٹ کے کمشنر ڈاکٹر کے ایلم برِتی، کمشنر جی ایچ ایم سی آر وی کرنن، یونیسیف کے چیف فیلڈ آفسیر ڈاکٹر زیلالم برہنو تفسے اڈیشنل کلکٹر جناب جتندر ریڈی، آر ٹی سی کے ایگزیکٹو ڈائرکٹر جناب سی وینکنا، اور دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔ جوائنٹ کمشنر پولیس (ٹریفک) جوئل ڈیوس نے آڈیو ویژول پریزنٹیشن میں کہا کہ حیدرآباد ٹریفک پولیس کا بنیادی مقصد ’آپ کے ساتھ، آپ کیلئے، ہمیشہ‘ ہے اور بچوں کے ’محفوظ تعلیم کے حق‘ کو یقینی بنانا اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے والدین، اسکول انتظامیہ، بس آپریٹرس اور متعلقہ افراد سے تعاون کی خواہش کی۔ شہری اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا گیا کہ حیدرآباد کا رقبہ 717.45 مربع کلومیٹر ہے، کل سڑکوں کی لمبائی 8,088 کیلو میٹر ہے، آبادی 70.11 لاکھ اور رجسٹرڈ گاڑیاں 92.96 لاکھ ہیں۔ روزانہ تقریباً 1,500 نئی گاڑیاں رجسٹر ہورہی ہیں جبکہ دونوں شہروں میں حادثات کی تفصیلات اِس طرح ہے کہ جنوری تا مئی 2026ء شہر میں تقریباً 1,604 سڑک حادثات پیش آئے جن میں 141 ہلاک، 86 شدید زخم اور 1,377 افراد معمولی زخمی ہوئے۔ 18 سال سے کم عمر افراد کے حوالے سے اسی مدت میں 128 بچے حادثات کا شکار ہوئے جن میں 7 کی موت، 4 شدید زخمی اور 117 کو معمولی چوٹیں آئیں۔ ٹرانسپورٹ کمشنر ڈاکٹر کے۔ ایلم برتی نے کہا کہ تلنگانہ روڈ حادثات کے حوالے سے قومی درجہ بندی میں نویں یا دسویں نمبر پر ہے اور سالانہ تقریباً 7,000 زندگیاں روڈ حادثات میں ضائع ہوتی ہیں، جن میں 10 تا 15 فیصد بچے شامل ہیں۔ ریاست میں 25,600 رجسٹرڈ ایجوکیشنل بسیں ہیں اور ان کی فِٹنس کی آن لائن سالانہ تصدیق لازمی ہے۔ اسکول ڈرائیوروں کیلئے ہر 3 سال بعد ریفریشر کورس لازمی ہے۔ب؍V