سڑکوں کی توسیع کا کام ادھورا

   

جائیدادوں کے حصول میں جی ایچ ایم سی کی کوتاہی

حیدرآباد۔13۔ستمبر۔(سیاست نیوز) پرانے شہر میں منظورہ سڑکوں کی توسیع کے کاموں کو آخر کب مکمل کیا جائے گا! شہرکے کئی علاقوں میں سڑکوں کی توسیع کے کام انجام دینے کے بعد ان کاموں کی تکمیل بلکہ برقی کھمبوں کو سڑک سے ہٹانے کے کام بھی مکمل کرلئے جاتے ہیں لیکن پرانے شہر میں سڑکوں کی توسیع کے کاموں کو برسوں قبل منظوری حاصل ہونے کے باوجود ان کاموں کے آغاز کے سلسلہ میں اختیار کئے جانے والے رویہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد پرانے شہر کے لئے بڑی سڑکوں کا محض اعلان کرتی ہے اور عملی طور پر ان سڑکوں کی توسیع کے اقدامات سے گریز کرنے لگتی ہے۔شاہ علی بنڈہ تا فتح دروازہ اور چندولعل بارہ دری سڑک پر جس رفتار سے سڑکوں کی توسیع کے کام انجام دیئے گئے ہیں اس رفتار سے پرانے کے شہر کے کسی بھی علاقہ میں توسیعی کاموں کو مکمل نہیں کیا گیا بلکہ اس سڑک کی توسیع سے قبل شروع کردہ دودھ باؤلی سے حسینی علم جانے والی سڑک پر توسیع کے کام اب بھی باقی ہیں اور اس سڑک پر نہ صرف توسیع کے عمل کو مکمل نہیں کیا گیا بلکہ جہاں توسیع کے کام انجام دیئے جاچکے ہیں وہاں سے برقی کھمبوں کو سڑک کے کنارے کرنے کے اقدامات تک نہیں کئے گئے ۔اس سڑک پر توسیع کے کاموں کے سبب شہریوں کو راحت حاصل ہونے کے بجائے اس علاقہ سے گذرنے والوں کے لئے یہ سڑک تکلیف کا سبب بن چکی ہے کیونکہ سڑک کی انتہائی خستہ حالت اور ادھورے کاموں کے سبب اس سڑک کا استعمال تکلیف دہ ہونے لگا ہے۔شہر حیدرآباد میں کئی مقامات پر جی ایچ ایم سی کی جانب سے سڑک کی توسیع کے منصوبوں کا اعلان کیا گیا لیکن ان میں کئی کاموں کا اب تک آغاز نہیں ہوپایا ہے ۔اسٹینڈنگ کمیٹی میں سڑکوں کی توسیع کے کاموں کو منظوری دیئے جانے کے بعد کئی سڑکوں پر بلدیہ کی جانب سے حاصل کی جانے و الی جائیدادوں پر نشان لگانے کے اقدامات کئے جاچکے ہیں لیکن اس کے باوجود جائیدادوں کے حصول کے سلسلہ میں کی جانے والی کوتاہی کے نتیجہ میں منصوبہ کی تخمینی لاگت میں اضافہ ہونے لگا ہے ۔ پرانے شہر میں سڑکوں کی توسیع کے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مقامی سیاسی قائدین کی جانب سے دلچسپی کا مظاہرہ کئے جانے کی صورت میں ان علاقوں میں بھی چوڑی سڑکوں کو یقینی بنایا جاسکتا ہے ۔