فلاحی تنظیموں سے ڈی ایس پی کی اپیل، ظہیرآباد دلخراش واقعہ کے ملزمین گرفتار
ظہیرآباد : ڈی ایس پی ظہیرآباد جی شنکر راجو نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ چراغ پلی پولیس اسٹیشن حدود میں گزشتہ ماہ 15 اکٹوبر کو قومی شاہراہ 65 پر پیش آئے سڑک حادثہ کے ملزمین کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ حادثہ میں ایک ہی خاندان کے 3 افراد ہلاک اور 4 بچے زخمی ہوگئے تھے جنھیں علاج کے لئے شریک دواخانہ کردیا گیا تھا۔ انھوں نے حادثہ کی تفصیلات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ چانگلیر کرناٹک کے رہنے والے محمد چاند پاشاہ اپنے افراد خاندان کے ہمراہ ظہیرآباد کے سرحدی موضع اسد گنج میں ایک تقریب میں شرکت کے بعد واپس جارہے تھے کہ پیچھے سے تیز رفتار ڈی سی ایم ویان نے بُری طرح ٹکر دے دی جس کے نتیجہ میں محمد چاند پاشاہ اور اُن کا 5 سالہ بیٹا محمد فیضان برسر موقع ہلاک ہوگئے جبکہ شدید زخمی ان کی اہلیہ عزیزہ بیگم نے حیدرآباد منتقلی کے دوران راستہ میں ہی جانبر نہ ہوسکیں۔ حادثہ میں زخمی ہونے والے 4 بچوں 2 سالہ ماہرہ، 4 سالہ محمد ابراہیم، 6 سالہ فرحان اور 8 سالہ محمد اسمٰعیل کو شریک دواخانہ کیا گیا تھا۔ پولیس چراغ پلی نے اس خصوصی میں ایک مقدمہ درج کرکے ڈی سی ایم ویان کا پتہ چلانے کے لئے کملول ٹول پلازہ کے سی سی ٹی وی فٹیج کا مشاہدہ کیا اور اس کے ذریعہ ڈی سی ایم کا پتہ چلاکر اس کے مالک اور ڈرائیور کو گرفتار کرلیا جن کا تعلق مہاراشٹرا سے ہے۔ ڈی ایس پی نے بتایا کہ سرکل انسپکٹر راج شیکھر اور دیگر پولیس عہدیداروں کی جانب سے حادثہ کے ملزمین کو نہ صرف گرفتار کرلیا گیا بلکہ انسانی ہمدردی اور جذبہ کے تحت حادثہ کا شکار ہونے والے بے سہارا یتیم بچوں کی 70 ہزار روپئے کی مالی امداد بھی کی گئی جبکہ دیگر افراد محمد نذیر 10 ہزار روپئے، محمد یونس 2 ہزار روپئے، سری روی ہیڈ ماسٹر رنجہول نے ایک ہزار روپئے اور سدھاکر کانسٹبل نے 1100 روپئے کا عطیہ دیا۔ ڈی ایس پی راجو نے ان بے سہارا اور یتیم بچوں کی مالی امداد کے لئے رفاہی تنظیموں اور سماجی جہد کاروں کو آگے آنے کی ضرورت ظاہر کی۔