سال میں پانچ مرتبہ اسکیم سے استفادہ کا موقع ، مرکزی وزارت ٹرانسپورٹ و ہائی ویز کا اعلان
حیدرآباد۔6اکٹوبر(سیاست نیوز) سڑک حادثہ کا شکار افراد کی جان بچانے کی کوشش کریں اورحکومت کی جانب سے انعام اور توصیفی سند حاصل کریں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے 15 اکٹوبر سے اس نئے منصوبہ پر عمل آوری کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ عوام میں سڑک حادثہ کا شکار افراد کو بچانے کا شعور اجاگر کیا جاسکے۔ سڑک حادثہ کا شکار ہونے والوں کو عام طور پر فوری مدد کرنے سے راہگیروں کی جانب سے گریز کیا جاتا ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ حادثہ کا شکار افراد کی مدد کے ذریعہ وہ کسی بھی طرح کی قانونی رسہ کشی کا شکار ہوں‘ عوام میں قانونی رسہ کشی کے اس خوف کو دور کرنے کے لئے مرکزی حکومت کی جانب سے اعلان کئے گئے منصوبہ کے تحت سڑک حادثہ کا شکار افراد کی مدد کرتے ہوئے ان کی زندگیوں کی حفاظت میں اہم کردار ادا کرنے والوں کو 5000 روپئے نقد انعام کے علاوہ ضلع کلکٹر کی جانب سے توصیفی سند بھی عطا کی جائے گی اور سال میں5 مرتبہ سڑک حادثہ کا شکار افراد کی جان بچاتے ہوئے اس اسکیم سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ مرکزی حکومت کی وزارت ٹرانسپورٹ و ہائی ویز کی جانب سے تمام ریاستوں کے چیف سیکریٹریز کو روانہ کئے گئے مکتوب میں کہا گیا ہے کہ وہ اس اسکیم کے سلسلہ میں عوام میں شعور اجاگر کریں تاکہ سڑک حادثہ کا شکار افراد کی بروقت مدد کے ساتھ انہیں طبی امداد پہنچاتے ہوئے ان کی جان بچانے کے اقدامات کئے جاسکیں۔ بتایاجاتا ہے کہ اس سلسلہ میں پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے تمام اسٹیشن ہاؤز آفیسرس کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے انہیں اس اسکیم کی قد و خال کے علاوہ رہنمایانہ خطوط کا بغور مشاہدہ کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں کیونکہ ضلع کلکٹر کو توصیف نامہ اور نقد انعام کیلئے سفارش کا اختیار اسٹیشن ہاؤز آفیسر س کو ہی دیا گیا ہے کیونکہ حادثہ کے فوری بعد تفصیلات ایس ایچ او کے پاس ہی ہوا کرتی ہیں اور وہ ہی پہلے عہدیدارہوتے ہیں جو حادثہ کا شکار اور اس کی مدد کرنے والوں کے متعلق تفصیلات رکھتے ہیں۔ سائبر آباد کمشنریٹ کے حدود میں کمشنر اسٹیفن رویندرا نے نے تمام پولیس اسٹیشنس کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے 15اکٹوبر سے اس اسکیم پر مؤثر عمل آوری کے اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے پولیس انسپکٹراں کو مشورہ دیا کہ وہ عوام میں اس بات کا شعور اجاگر کریں کہ حادثہ کا شکار افراد کی مدد سے انہیں کسی بھی طرح کی قانونی رسہ کشی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا بلکہ جان بچانے کی کوشش اور ان کی مدد کی صورت میں انہیں انعام اور توصیفی سند دی جائے گی۔م