نیشنل ہائی وے اتھاریٹی اور ریونیو حکام کے ساتھ اجلاس، سنگاریڈی میں مسجد کا تحفظ کرنے سے اتفاق
حیدرآباد۔ 23 ستمبر (سیاست نیوز) صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ محمد سلیم نے آج نیشنل ہائی وے اتھاریٹی آف انڈیا اور ریونیو عہدیداروں کا مشترکہ اجلاس طلب کیا جس میں سڑک کی توسیع کے سلسلہ میں سنگاریڈی میں مسجد کے انہدام کے مسئلہ کا جائزہ لیا گیا۔ صدرنشین وقف بورڈ نے عہدیداروں پر واضح کیا کہ کسی بھی صورت میں مسجد کو سڑک کی تعمیر کے لیے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ وقف ایکٹ کے تحت وقف بورڈ مساجد کے تحفظ کا پابند ہے۔ مسئلہ کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے نیشنل ہائی ویز اتھاریٹی اور ریونیو حکام نے کہا کہ سڑک کی توسیع کے لیے مسجد کو ہرگز نہیں چھیڑا جائے گا بلکہ متبادل راستہ تلاش کرتے ہوئے سڑک کی توسیع عمل میں آئے گی۔ عہدیداروں نے بتایا کہ چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی جانب سے تفصیلی مکتوب ملنے کے بعد ریونیو ڈپارٹمنٹ میں مسجد کو حاصل کرنے سے متعلق نوٹس سے دستبرداری اختیار کرلی ہے۔ سنگاریڈی ضلع کے پولکل منڈل میں سروے نمبر 38 کے تحت مسجد سیف اللہ قائم ہے اور گزشتہ دنوں ریونیو حکام نے مسجد کو حاصل کرنے کے لیے نوٹس جاری کی تھی۔ وقف بورڈ کی مداخلت کے بعد یہ کارروائی روک دی گئی۔ محمد سلیم نے چیف ایگزیکٹیو آفیسر عبدالحمید کو سنگاریڈی روانہ کیا تھا۔ محمد سلیم نے کہا کہ مسجد تاقیام مسجد رہتی ہے اور مسلمان کسی بھی صورت میں انہدام کی اجازت نہیں دے سکتے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو تمام مذاہب کا مکمل احترام کرتے ہوئے اور سابق میں انہوں نے سڑکوں کی توسیع کے لیے عبادت گاہوں کو منہدم نہ کرنے اور متبادل راستہ اختیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وقف ایکٹ 1995 کے تحت کسی بھی محکمہ کو مسجد کی اراضی حاصل کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے حکام کو مشورہ دیا کہ وہ سڑکوں کی توسیع کے معاملے میں آئندہ بھی عبادت گاہوں کا خیال رکھیں۔ جہاں کہیں بھی عبادت گاہ موجود ہے اس بارے میں وقف بورڈ کو اطلاع دی جائے۔ اجلاس میں نیشنل ہائی ویز اتھاریٹی کے عہدیدار ایم ریڈیا، منیجر نیشنل ہائی وے اتھاریٹی محمد خرشید علی، چیف ایگزیکٹیو آفیسر وقف بورڈ عبدالحمید اور وقف بورڈ کے دیگر عہدیدار موجود تھے۔