سکریٹریٹ سے دفاتر کی منتقلی کے عمل کو جاری رکھنے کی ہدایت

   

حکومت مقدمہ میں کامیابی کیلئے پرامید ، بی آر کے بھون میں سہولتیں عدم ستیاب، ملازمین کا ادعا
حیدرآباد۔9جولائی (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ نے ریاستی سیکریٹریٹ میں موجود سرکاری دفاتر کو اندرون ایک ہفتہ منتقل کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے محکمہ جاتی عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی عمارت سے متصل بی آر کے بھون میں اپنے دفاتر کو منتقل کرنے کا عمل شروع کردیں اور اندرون ایک ہفتہ اس منتقلی کے عمل کو مکمل کرلیا جائے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے جاری کردہ ان ہدایات کے بعد ریاستی سیکریٹریٹ میں موجود محکمہ جی اے ڈی کی جانب سے منتقلی کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں اور دیگر محکمہ جات کے عہدیدارو ںکی جانب سے بھی اپنے عملہ کو اس بات کی ہدایت جاری کی جا چکی ہے کہ وہ اپنے دفاتر کی منتقلی کے اقدامات شروع کردیں اور بی آر کے بھون میںانہیں الاٹ کردہ مقامات کا جائزہ لیتے ہوئے فرنیچر اور دفتری دستاویزات کی منتقلی عمل میں لائی جائے۔ سیکریٹریٹ کی موجودہ عمارتوں کے انہدام اور ان کی جگہ نئی عمارتوں کے حکومت کے منصوبہ کو گذشتہ یوم اس وقت دھکہ پہنچا جب تلنگانہ ہائی کورٹ نے سیکریٹریٹ کی عمارتو ںکے علاوہ ایرم منزل کی تاریخی عمارت کو منہدم کرنے کے منصوبہ پر تاحکم ثانی التواء عائد کرتے ہوئے جوں کا توں موقف برقرار رکھنے کی ہدایت دی۔ عدالتی احکام کے بعد یہ سمجھا جا رہا تھا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے دفاتر کی منتقلی کا عمل روک دیا جائے گا لیکن بتایا جاتا ہے کہ اس عمل کو جاری رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے اور کہا جا رہاہے کہ حکومت کی جانب سے عدالت میں اپنے موقف کا دفاع کرتے ہوئے

اس مقدمہ میں کامیابی حاصل کرلی جائے گی۔ سرکاری دفاتر کی منتقلی کے متعلق عہدیداروں نے بتایا کہ بی آرکے بھون میں جگہ کی گنجائش نہ ہونے کی صورت میں آدرش نگر ایم ایل اے کوارٹرس میں موجود 50 سے زائد مخلوعہ کوارٹرس کو استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے ۔بتایاجاتا ہے کہ ریاست آندھرا پردیش کے 50ارکان اسمبلی کی جانب سے آدرش نگر ایم ایل اے کوارٹرس کا تخلیہ کئے جانے کے بعد یہ کوارٹرس مخلوعہ ہیں اور حکومت نے ضرورت پڑنے پر سیکریٹریٹ کے دفاتر کو ان کوارٹرس میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے سلسلہ میں عہدیدار پس وپیش کا شکار ہیں کیونکہ بی آر کے بھون میں فوری طور پر کوئی معیاری سہولتیں موجود نہیں ہیں۔ سیکریٹریٹ میں موجود انٹرنیٹ کی سہولت کو بی آر کے بھون تک وسعت دینے کے سلسلہ میں محکمہ انفارمیشن ٹکنالوجی کی جانب سے اقدامات کئے جانے شروع ہوچکے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ اندرون 15یوم بی آرکے بھون میں فائبر آپٹک انٹرنیٹ سہولت کی فراہمی کے اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا اور ان اقدامات کی تکمیل تک ریاستی حکومت کے بعض محکمہ جات میں انٹر نیٹ سہولت موجود نہیں رہے گی۔ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے نئے سیکریٹریٹ کی تعمیر کے سلسلہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے سب سے پہلے موجودہ عمارتوں کے تخلیہ کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کی جانب سے کئے گئے فیصلہ کے مطابق ایکسائز اور کمرشیل ٹیکس کے دفاتر کو محکمہ ایکسائز کے دفتر واقع نامپلی میں منتقل کیا جائے گا اور محکمہ آبپاشی کے دفاتر کو جل سودھا واقع ایرم منزل منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔