تین ہفتوں میں جواب داخل کرنے کی ہدایت ، تلنگانہ ہائی کورٹ میں درخواستوں کی سماعت کے بعد عدالت کا فیصلہ
حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے قدیم سکریٹریٹ کی دونوں مساجد کو مسمار کرنے کے خلاف داخل کئے گئے مفاد عامہ کی درخواستوں کی سماعت کے بعد مرکزی اور ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اندرون یکم اکتوبر کو اپنا جواب داخل کرنے کی اجازت دی۔ شہر کے وکیل محمد مظفر اللہ خان اور دیگر کی جانب سے مفاد عامہ کے تحت داخل کی گئی درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس راگھویندر سنگھ چوہان اور جسٹس بی وجئے سین ریڈی کے اجلاس پر ہوئی۔ سماعت کے بعد عدالت نے یہ کہا کہ مساجد کی مسماری کیلئے وقف ایکٹ کے قوانین کی خلاف ورزی کی گئی اور مندر کو مسمار کرنے کیلئے بھی انڈومنٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کی گئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ احاطہ سکریٹریٹ میں منہدم کی گئی دونوں مساجد کے لئے وقف ایکٹ کے دفعہ 51 پر عمل نہیں کیا گیا اور نہ ہی وقف بورڈ سے اس سلسلہ میں اجازت طلب کی گئی۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں یہ بھی کہا کہ مذہبی مقام کو توڑنے کیلئے حکومت مقررہ قوانین سے ہٹ کر کام نہیں کرسکتی۔ اس سلسلہ میں ایڈوکیٹ محمد مظفر اللہ خان نے درخواست گزار افضل دکنی کیلئے پیش ہوتے ہوئے عدالت کو یہ بتایا کہ حکومت نے مساجد کو توڑنے کیلئے ایک طرفہ کارروائی کی ہے جبکہ وقف ایکٹ کے دفعہ 91 پر بھی عمل آوری نہیں کی گئی ۔ وقف ایکٹ کے مطابق حکومت کو بھی کسی بھی مذہبی مقام میں تبدیلی کرنے سے قبل اسٹیٹ وقف بورڈ سے اجازت طلب کرنا لازم ہے۔ واضح رہے کہ جاریہ سال جولائی میں قدیم سکریٹریٹ کی عمارتوں کو منہدم کرنے کے دوران حکومت نے دو مساجد اور ایک مندر کو منہدم کردیا تھا جس کے خلاف بڑے پیمانہ پر ناراضگی پائی جاتی ہے ۔ شہر کے ایک اور وکیل خواجہ اعجاز الدین نے بھی اس سلسلہ میں مفاد عامہ کے تحت درخواست داخل کی تھی اور کہا کہ دونوں مساجد کے علاوہ مندر کو بھی غیر قانونی طور پر مسمار کردیا گیا ہے اور اس سلسلہ میں مناسب کارروائی کرتے ہوئے فی الفور احکام جاری کئے جائیں جبکہ ایک اور درخواست گزار ذاکر حسین جاوید کی طرف سے عدالت میں بحث کرتے ہوئے سید یاسر میمون نے مساجد کی مسماری کے سلسلہ میں حکومت کی کھلی خلاف ورزی سے عدالت کو واقف کروایا ۔ تینوں درخواستوں کی سماعت کے بعد چیف جسٹس راگھویندر سنگھ چوہان نے مرکزی وزارت اقلیتی بہبود ، ریاستی حکومت اور تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اپنا جواب داخل کرنے کیلئے تین ہفتوں کی مہلت دی گئی اور اس کیس کی آئندہ سماعت 8 اکتوبر کو مقرر کیا۔