سکریٹریٹ مکمل طور پر خالی ، عمارت کو کل مقفل کردیا جائے گا

   

نئی عمارت کی تعمیر کیلئے عدالت کی منظوری کاانتظار ، حکومت اپنے منصوبے کو قطعیت دینے میں مصروف
حیدرآباد۔27ستمبر(سیا ست نیوز) حکومت تلنگانہ کے دفاتر معتمدی یعنی سیکریٹریٹ کی موجودہ عمارت میں داخلہ کا آج آخری دن ہوگا اور اس کے بعد اس عمارت میں داخلہ عدالت کے فیصلہ پر منحصر ہوگا اگر عدالت کی جانب سے حکومت کے منصوبہ کو منظوری دیتے ہوئے نئی عمارت کی تعمیر کی اجازت فراہم کی جاتی ہے تو موجودہ سیکریٹریٹ کی عمارت قصۂ پارینہ بن جائے گی۔تلنگانہ سیکریٹریٹ کو 29ستمبر کواتوار کے دن مقفل کردیاجائے گا ۔ حکومت نے سیکریٹریٹ کی موجودہ عمارتوں کے انہدام اور ان کی جگہ نئی عمارتو ںکی تعمیر کے لئے تمام محکمہ جات کو منتقل کرنے کے احکام جاری کئے تھے اور سیکریٹریٹ میں خدمات انجام دینے والے بیشتر تمام دفاتر انہیں الاٹ کردہ عمارتو ںمیں منتقل کئے جا چکے ہیں اور اتوار سے قبل جو کوئی دفاتر موجود ہیں انہیں بھی منتقل کردیا جائے گا۔ محکمہ جنرل ایڈمنسٹریشن کی جانب سے جاری کردہ احکامات میں اس بات کو واضح کردیا گیا ہے کہ اتوار29 ستمبر کو سیکریٹریٹ کی موجودہ عمارت مقفل کردی جائے گی اور جو کئی وزیر اس عمارت میں موجود ہیں وہ ہفتہ کے دن عمارت کے تخلیہ کو یقینی بنائیں ۔ بتایاجاتا ہے کہ 95 فیصد محکمہ جاتی عملہ ‘ فرنیچر‘ فائیلس اور عملہ کی منتقلی ہوچکی ہے

لیکن اب جو کچھ بھی باقی ہے وہ ہفتہ کے دن مکمل طور پر خالی کردیا جائے گا ۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے سیکریٹریٹ کی عمارت کو منہدم کرتے ہوئے اس کی جگہ نئی عصری عمارت کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا جا چکا ہے لیکن اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ مختلف تنظیموں کی جانب سے سکریٹریٹ کی عمارت کے انہدام اور اس کی جگہ نئی عمارت کی تعمیر کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع ہوتے ہوئے حکم التواء حاصل کیا گیا ہے ۔ عدالت نے حکومت کو احکام جاری کئے تھے کہ وہ عمارت کے انہدامی کاروائی کو قطعی فیصلہ تک مؤخر رکھے جس پر حکومت کی جانب سے سیکریٹریٹ کی عمارت کے تخلیہ کو جاری رکھتے ہوئے عمارتو ںکے انہدام کے عمل کو روک دیا گیا تھا اور اب جبکہ عمارت مکمل طور پر خالی ہوچکی ہے تو اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ سیکریٹریٹ کی عمارت کو مقفل کرتے ہوئے اس کی کنجیاں چیف سیکریٹری تلنگانہ کے حوالہ کردی جائیں ۔ بتایاجاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے سیکریٹریٹ کے انہدام اور اس کی جگہ نئی عمارت کی تعمیر کا مکمل منصوبہ تیار رکھا گیا ہے اور اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے تمام رپورٹس تیار رکھی گئی ہیں لیکن عدالت کی جانب سے پیدا کی گئی رکاوٹ کے سبب صورتحال جوں کی توں برقرار ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ تمام محکمہ جات کے سیکریٹریز کو حکومت کی جانب سے واضح ہدایات جاری کی جاچکی ہیں کہ وہ فوری طور پر انہیں الاٹ کردہ نئی عمارتوں اور دفاتر سے کاموں کا آغاز کردیں۔ذرائع کے مطابق چیف سیکریٹری نے اپنے قریبی عہدیدارو ںکو اس بات کے اشارے دیئے ہیں کہ وہ عدالت کے قطعی فیصلہ کے بعد ہی تخلیہ کا فیصلہ کرنے کے حق میں تھے لیکن حکومت کی جانب سے ڈالے جانے والے دباؤ کے سبب انہوں نے مکمل عمارت کا تخلیہ کرتے ہوئے سیکریٹریٹ کی موجودہ عمارت کو مقفل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔