سکریٹریٹ میں عبادت گاہوں کا انہدام تلنگانہ کیلئے یوم سیاہ

   

مجلس اور بی جے پی کی خاموشی افسوسناک ، ریونت ریڈی اور محمد علی شبیر کی پریس کانفرنس
حیدرآباد: کانگریس پارٹی نے سکریٹریٹ کے احاطہ میں عبادت گاہوں کے انہدام کو تلنگانہ کے لئے یوم سیاہ قرار دیا۔ رکن پارلیمنٹ ریونت ریڈی اور سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے عبادت گاہوں کے انہدام پر حکومت کی حلیف جماعت مجلس اور بی جے پی کی خاموشی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ٹی آر ایس ، بی جے پی اور مجلس تینوں اس معاملہ میں ایک ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عبادتگاہوں کے انہدام کے ذریعہ حکومت نے عوام کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے ۔ چیف منسٹر کی جانب سے نئی مسجد اور مندر کی تعمیر کے اعلان کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کانگریس قائدین نے کہا کہ عبادت گاہیں چیف منسٹر کی ذاتی جائیداد نہیں ہیں اور انہیں انہدام یا تعمیر کرنے کے فیصلہ کا حق حاصل نہیں ۔ عوام کی منظوری کے بغیر حکومت نے عبادت گاہوں کو منہدم کرتے ہوئے نئی روایت قائم کی ہے۔ ریونت ریڈی نے کے سی آر کے بیان کا اسد اویسی کی جانب سے خیرمقدم کرنے کی مذمت کی ۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ سکریٹریٹ سے 16 چیف منسٹرس نے حکمرانی کی اور کسی کو واستو کا خیال نہیں آیا لیکن کے سی آر واستو کے نام پر عمارتوں کو منہدم کر رہے ہیں۔ راتوں رات انہدام کے سلسلہ میں چیف سکریٹری اور ڈائرکٹر جنرل پولیس کو ہدایت دی گئی۔ کانگریس قائدین نے الزام عائد کیا کہ کے ٹی آر کو چیف منسٹر بنانے کیلئے نیا سکریٹریٹ تعمیر کیا جارہا ہے ۔ کانگریس قائدین نے الزام عائد کیا کہ عبادتگاہوں کے انہدام کی چیف منسٹر کو اطلاع تھی لیکن وہ عوامی ناراضگی سے بچنے کے لئے لاعلمی کا اظہار کر رہے ہیں ۔ انہدام پر چیف منسٹر کا اظہار افسوس مگرمچھ کے آنسو ہیں۔ تلنگانہ کی تاریخ میں آج کا دن یوم سیاہ کے طور پر یاد رکھا جائے گا ۔ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق حسین ساگر کے قریب کوئی مستقل عمارت تعمیر نہیں کی جاسکتی۔ اس سلسلہ میں سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا۔ محمد علی شبیر نے بابری مسجد تنازعہ کا حوالہ دیا اور کہا کہ مسلمانوں نے اسی مقام پر تعمیر کا مطالبہ کیا تھا اور طویل قانونی لڑائی لڑی ۔