سکریٹریٹ میں مساجد اور مندر کے مسئلہ پر حکومت کو دشواریاں

   

موجودہ جگہ پر برقراری کیلئے حکومت کی حلیف جماعت کا مطالبہ
حیدرآباد۔ 18 ۔ ستمبر (سیاست نیوز) نئے سکریٹریٹ کی تعمیر ٹی آر ایس حکومت کے لئے دن بہ دن چیلنج بنتی جارہی ہے ۔ سکریٹریٹ کے احاطہ میں موجود دو مساجد اور ایک مندر کے بارے میں حکومت کے غیر واضح موقف کے نتیجہ میں مسلمانوں اور ہندوؤں میں بے چینی پائی جارہی ہے ۔ حکومت میں نئے سکریٹریٹ کی تعمیر کی منصوبہ بندی کیلئے دو علحدہ کمیٹیاں تشکیل دی تھیں جس میں ماہرین کو شامل کیا گیا ہے۔ دونوں کمیٹیوں نے حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کردی اور باوثوق ذرائع کے مطابق کمیٹیوں نے مساجد اور مندر کو کسی اور مقام پر منتقل کرنے کی صلاح دی ہے۔ دوسری طرف مسلم تنظیموں اور حکومت کی حلیف جماعت نے بھی عبادتگاہوں کی منتقلی کی مخالفت کی ۔ اسمبلی میں حلیف جماعت کے رکن نے عبادت گاہوں کی منتقلی کے بارے میں حکومت کو متنبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ نئے سکریٹریٹ کی تعمیر سے کوئی اختلاف نہیں ہے لیکن وہاں موجود مساجد اور مندر کا کیا ہوگا ، ان کی منتقلی کو اب قبول نہیں کریں گے۔ وہ جہاں ہیں ، وہیں برقرار رہنے چاہئیں۔ حکومت کو ایوان میں اس سلسلہ میں واضح تیقن دینا ہوگا ۔ عدالت میں معاملہ ہونے کا بہانہ بناتے ہوئے مسئلہ کو ٹالنے کی کوشش نہ کی جائے۔ وزیر عمارات و شوارع پرشانت ریڈی نے بتایا کہ حکومت نے نئے سکریٹریٹ کی تعمیر کا فیصلہ کرتے ہوئے دو کمیٹیاں تشکیل دی ہیں ۔ کمیٹیوں کی رپورٹ کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔ انہوں نے عبادت گاہوں سے متعلق مطالبہ کو حکومت کے علم میں لانے کا تیقن دیا۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ معاملہ عدالت میں ہے ، لہذا وہ اس بارے میں کوئی واضح تیقن نہیں دے سکتے۔