جی اے ڈی میں خدمات سے دشواریاں، چیف سکریٹری سے نمائندگی
حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے سکریٹریٹ کے جی اے ڈی ڈپارٹمنٹ میں نائیٹ شفٹ کا آغاز کیا جو ملازمین کیلئے تکلیف کا باعث بن چکا ہے ۔ ملک میں پہلی مرتبہ تلنگانہ سکریٹریٹ کے ملازمین کیلئے عام دنوں کے علاوہ تعطیلات میں بھی نائیٹ شفٹ کے آغاز کا فیصلہ کیا گیا ۔ تعطیلات کے دوران بھی محدود ملازمین دو شفٹ میں خدمات انجام دیں گے ۔ نئے سسٹم کے تحت جی اے ڈی کے مرد اور خاتون ملازمین کو دو شفٹ میں کام کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ حکومت کے اس فیصلہ سے جی اے ڈی ملازمین میں ناراضگی پائی جاتی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہنگامی حالات میں وہ ڈیوٹی کے اوقات کے باوجود رات میں خدمات انجام دیتے رہے ہیں لیکن نائیٹ شفٹ کو لازمی قرار دینا تکلیف کا باعث ہے۔ ملازمین نے کہا کہ ریاست میں کوئی ہنگامی صورتحال نہیں ، باوجود اس کے جی اے ڈی کو دو شفٹوں میں رکھنا ناقابل فہم ہے ۔ چیف سکریٹری سومیش کمار نے 3 ڈسمبر کو سرکولر جاری کرتے ہوئے رات 8 بجے تا صبح 8 بجے تک سیکنڈ شفٹ میں کام کی ہدایت دی ہے۔ ملازمین دو شفٹ میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ دو ماہ قبل حیدرآباد میں سیلاب اور شدید بارش کی صورتحال کے پیش نظر نائیٹ شفٹ کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔ کووڈ۔19 لاک ڈاؤن کے دوران جی اے ڈی میں وار روم قائم کیا گیا تھا جس کے تحت رات دیر گئے تک ملازمین دفتر میں دستیاب تھے۔ صورتحال میں بہتری کے بعد وار روم بند کردیا گیا ۔ عہدیداروں اور ملازمین کا کہنا ہے کہ ہنگامی حالات میں نائیٹ شفٹ کا آغاز قابل فہم ہے لیکن عام حالات میں اس کی کوئی ضرورت نہیں۔جی اے ڈی کے ملازمین نئی تجویز کی مخالفت کر رہے ہیں۔ چیف سکریٹری سومیش کمار سے اس سلسلہ میں نمائندگی کی گئی۔ تلنگانہ سکریٹریٹ ایمپلائیز اسوسی ایشن کے صدر نریندر راؤ نے چیف سکریٹری سے ملاقات کرتے ہوئے ملازمین کی دشواریوں اور مشکلات سے واقف کرایا ۔
