سکریٹریٹ کی دونوں مساجد میں نمازوں کی ادائیگی سے روک دیاگیا

   

محمد علی شبیر کا احتجاج، مسلمانوں کو دستوری حق سے محروم کرنے کا الزام، حلیف جماعت کی خاموشی معنی خیز
حیدرآباد۔ 30 ستمبر (سیاست نیوز) سابق وزیر محمد علی شبیر نے سکریٹریٹ کی مساجد میں نماز پر پابندی فوری برخاست کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے چیف منسٹر سے ٹوئٹر پر کہا کہ تاریخ میں کے سی آر کا نام عبادتگاہوں کو منہدم کرنے والے شخص کی حیثیت سے شامل ہوگا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف سکریٹری کی جانب سے سکریٹریٹ کو مقفل کرنے احکامات کے بعد احاطہ میں دونوں مساجد میں نمازوں کی ادائیگی کو روک دیا گیا۔ نماز کے اوقات میں جب امام، موذن اور مصلی پہنچے تو سکیوریٹی نے انہیں داخلے سے روک دیا اور کہا کہ اب مساجد میں عبادت کی اجازت نہیں دی جائیگی تاوقتیکہ سکریٹریٹ کی نئی عمارت تعمیر ہوجائے۔ گزشتہ دو دن سے مساجد میں نماز کی ادائیگی سے روکنے پر مسلمانوں میں بے چینی ہے۔ سکریٹریٹ کے اطراف واقع دفاتر کے ملازمین ان مساجد میں نماز کیلئے آتے تھے لیکن سکریٹریٹ کی نئی عمارت کی تعمیر تک امتناع عائد کرکے ان اندیشوں کو ہوا دی گئی کہ حکومت سکریٹریٹ میں عبادت گاہوں کو منہدم کردے گی۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ مساجد میں عبادت سے روکنا دستور کی خلاف ورزی ہے۔ ہر شخص کو اپنی عبادت گاہ میں بلا روک ٹوک داخلے کا اختیار ہے۔ لیکن کے سی آر حکومت مسلمانوں کو عبادت کے حق سے محروم کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب سے بی جے پی کے ساتھ ٹی آر ایس کی خفیہ دوستی ہوئی ہے اس وقت سے کے سی آر پر زعفرانی اثرات واضح دکھائی دینے لگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی عمارت کی تعمیر کی راہ میں مساجد رکاوٹ نہیں ہیں۔ جب بھی حکومت چاہے نئی عمارتوں کی تعمیر شروع کرسکتی ہے لیکن عبادت گاہوں کو مقفل کرنا ناقابل قبول ہے۔ محمد علی شبیر نے مطالبہ کیا کہ کم از کم نمازوں کے اوقات میں مساجد میں داخلے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے حکومت کی حلیف جماعت کی خاموشی کو معنی خیز قراردیا اور کہا کہ مسلمانوں کے مفادات کی نگہبانی کا دعوی کرنے والی حلیف جماعت کو مساجد میں عبادت سے روکنے کے مسئلہ پر قوم کو جواب دینا ہوگا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ سکریٹریٹ کے احاطہ میں دو مساجد کے علاوہ ایک مندر موجود ہے اور چیف منسٹر نے اسمبلی میں عبادت گاہوں کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ عبادت گاہوں کو چھیڑے بغیر نئی عمارتیں تعمیر کی جاسکتی ہیں اور یہ بھی اسی وقت ممکن ہے جب ہائی کورٹ میں فیصلہ حکومت کے حق میں رہے۔