سپریم کورٹ میں سماعت کا خوف،گورنر سے مداخلت کرنے اتم کمار ریڈی کی اپیل
حیدرآباد ۔ صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی نے سکریٹریٹ کی موجودہ عمارتوں کے انہدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے یوم سیاہ سے تعبیر کیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر 4 کروڑ عوام کی زندگیوں سے کھلواڑ کررہے ہیں۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ سکریٹریٹ کی موجودہ عمارتوں کا انہدام غیر ضروری اور سرکاری خزانہ پر اضافی بوجھ ہے۔ کے سی آر حکومت کا یہ اقدام تغلق دور کی یاد دلاتا ہے اور کے سی آر نے عوامی زندگی کے تحفظ کے بجائے اپنے لئے آرام و آسائش کو ترجیح دی ہے۔ کے سی آر تلنگانہ کے 4 کروڑ عوام کی زندگی سے کھلواڑ کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نئے سکریٹریٹ کی تعمیر کے مسئلہ پر عوام کو تلنگانہ ہائی کورٹ سے مایوسی ہوئی ہے۔ ہائی کورٹ نے نئی عمارتوں کی تعمیر کی اجازت دے دی جس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا جس کی سماعت چہارشنبہ کو مقرر ہے لیکن حکومت نے آدھی رات سے انہدامی کارروائی شروع کردی تاکہ سپریم کورٹ کے حکم التواء سے بچا جاسکے۔ اتم کمار ریڈی نے نئے سکریٹریٹ کی ضرورت کے بارے میں سوال کیا اور کہا کہ حکومت سرکاری ملازمین کو تنخواہ اور وظیفہ یابوں کو پنشن ادا کرنے کے موقف میں نہیں ہے، کسانوں کا قرض معاف نہیں کیا گیا اور بے روزگار نوجوانوں کو بیروزگاری الاؤنس کا پورا نہیں ہوا۔ عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں ناکام کے سی آر نے نئے سکریٹریٹ پر توجہ مرکوز کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکریٹریٹ میں کئی بلاکس نوتعمیر شدہ ہیں اور اچھی حالت میں ہیں۔ 1000 کروڑ خرچ کرنے کیلئے کے سی آر نے کنٹراکٹرس سے معاہدہ کیا ہے۔ کانگریس نے قدیم عمارتوں کو کوویڈ ہاسپٹل میں تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے چیف سکریٹری سومیش کمار پر تنقید کی اور کہا کہ وہ آندھرا پردیش کیڈر سے تعلق رکھتے ہیں لہذا چیف سکریٹری کے عہدہ کے اہل نہیں ہوسکتے۔ 20 سینئر عہدیداروں کو نظرانداز کرتے ہوئے انہیں چیف سکریٹری بنایا گیا۔ وہ بیوروکریسی کے سربراہ کے بجائے چیف منسٹر کے ایجنٹ کی طرح کام کررہے ہیں۔ گورنر کی جانب سے طلب کردہ اجلاس میں غیر حاضر رہ کر چیف سکریٹری نے دستور کی توہین کی ہے۔ کورونا کی صورتحال سے نمٹنے میں حکومت پر ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے گورنر سے درخواست کی کہ وہ تنظیم جدید قانون کے سیکشن8 کو نافذ کرتے ہوئے اپنے اختیارات کا استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کورونا علاج کو آروگیہ شری کے تحت شامل نہیں کیا گیا تو کانگریس پارٹی احتجاج کرے گی۔ اس موقع پر ارکان مقننہ ٹی جیون ریڈی، ڈی سریدھر بابو اور جگا ریڈی موجود تھے۔
