سکریٹریٹ کی قدیم عمارتوں کا انہدام قواعد کے عین مطابق

   

Ferty9 Clinic


گرین ٹریبونل میں پولیوشن کنٹرول بورڈ کا حلفنامہ، ریونت ریڈی کی درخواست کی سماعت
حیدرآباد: سکریٹریٹ کی قدیم عمارتوں کے انہدام کے خلاف نیشنل گرین ٹریبونل میں رکن پارلیمنٹ ریونت ریڈی کی جانب سے داخل کردہ درخواست کے جواب میں تلنگانہ پولیوشن کنٹرول بورڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے تمام ضروری اجازت نامے حاصل کرنے کے بعد عمارتوں کو منہدم کیا ہے۔ پولیوشن کنٹرول بورڈ کی جانب سے گرین ٹریبونل میں حلفنامہ داخل کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حسین ساگر جھیل انسانی اختراع ہے اور یہ تری اراضی کے تحت نہیں آتا۔ کنزرویشن آف مینجمنٹ رولس 2017 کا اطلاق حسین ساگر پر نہیں ہوتا۔ پولیشن کنٹرول بورڈ نے حکومت کے حق میں حلفنامہ داخل کرتے ہوئے واضح کیا کہ عمارتوں کے انہدام سے حسین ساگر کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ درخواست گزار ریونت ریڈی نے کہا تھا کہ حسین ساگر سے سکریٹریٹ محض 80 میٹر کے فاصلہ پر ہے ، لہذا اس علاقہ میں کسی بھی تعمیری سرگرمی کے لئے ویٹ لینڈ رولس 2017کے تحت حکام سے اجازت حاصل کرنی ہوگی۔ پولیوشن کنٹرول بورڈ نے کہا کہ محکمہ عمارت و شوارع نے محکمہ چھوٹی آبپاشی سے جو وضاحت طلب کی ہے ، اس کے مطابق حسین ساگر مصنوعی جھیل ہے اور آبگیر علاقہ کا قانون لاگو نہیں ہوتا۔ درخواست گزار نے کہا کہ حکومت نے ضروری اجازت کے بغیر ہی قدیم عمارتوں کو منہدم کیا ہے ۔ بورڈ کے مطابق 30 نومبر تک عمارتوں کے انہدام سے 1.14 لاکھ ٹن ملبہ نکالا گیا۔ 53531 ٹن ملبے کی پراسیسنگ کی گئی ۔ واضح رہے کہ تلنگانہ حکومت نئے سکریٹریٹ کی تعمیر میں تمام رکاوٹوں کو دور کرنا چاہتی ہے ۔ گرین ٹریبونل کا فیصلہ اس معاملہ میں اہمیت کا حامل رہیگا۔