سکریٹریٹ کی مساجد میں نماز کی اجازت دینے وزیر داخلہ سے نمائندگی

   

کانگریس اقلیتی قائدین کی ملاقات، عبادت گاہوں کی منتقلی یا انہدام کی مخالفت
حیدرآباد۔ 3 اکٹوبر (سیاست نیوز) پردیش کانگریس کمیٹی میناریٹی ڈپارٹمنٹ کے ایک وفد نے آج وزیرداخلہ محمد محمود علی سے ملاقات کی اور یادداشت پیش کرتے ہوئے سکریٹریٹ کے احاطہ میں موجود عبادت گاہوں میں باقاعدہ عبادت کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔ پردیش کانگریس میناریٹی ڈپارٹمنٹ کے صدرنشین شیخ عبداللہ سہیل کی قیادت میں وفد نے وزیر داخلہ کو بتایا کہ سکیوریٹی حکام کسی کو داخلے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں اور عوام نمازوں کی ادائیگی کے لیے مساجد تک رسائی سے محروم ہیں۔ 30 ستمبر سے سکریٹریٹ میں داخلہ پر پابندی عائد کردی گئی۔ سکریٹریٹ کے احاطہ میں تقریباً 7 دہوں سے دونوں مساجد موجود ہیں جہاں باقاعدہ پنجوقتہ نمازوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکریٹریٹ میں موجود مندر میں بھی عبادت کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ عبداللہ سہیل نے کہا کہ عہدیداروں کے لیے مناسب نہیں کہ وہ عبادتگاہوں میں عوام کے داخلے پر پابندی عائد کریں کیوں کہ یہ عوام کے مذہبی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ مساجد اور مندریں دفاتر نہیں ہیں جنہیں مقفل کردیا جائے۔ عوام کا ان سے جذباتی لگائو رہتا ہے۔ انہوںنے کہا کہ سکریٹریٹ نئی عمارتوں کی تعمیر کے سلسلہ میں حکومت کو تمام کلیئرنس ملنے کے باوجود کانگریس پارٹی عبادت گاہوں کے انہدام کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ کئی دہوں سے موجود مساجد اور مندر کو منہدم یا منتقل نہیں کیا جاسکتا۔ ہائی کورٹ نے 14 اکٹوبر تک موجودہ سرکاری عمارتوں کے انہدام پر حکم التوا جاری کردیا ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ عوام کو عبادتگاہوں میں عبادت سے روکا جائے۔ عبداللہ سہیل نے عوام کو مساجد اور مندروں میں عبادت کی اجازت دینے اور نئے سکریٹریٹ کی تعمیر کی صورت میں عبادت گاہوں کو کوئی نقصان نہ پہنچانے کا مطالبہ کیا۔ وزیر داخلہ نے تیقن دیا کہ وہ متعلقہ عہدیداروں سے مشاورت کے بعد ضروری کارروائی کریں گے۔